فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی مکمل ذمے داری فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہو گی، جسے عرب اور عالمی حمایت حاصل ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "جنگ کے اگلے روز حماس کی کوئی حکمرانی نہیں ہو گی"۔ عباس نے پیر کے روز ایک بار پھر زور دیا کہ غزہ فلسطینی ریاست کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔
نیویارک میں بین الاقوامی کانفرنس کے صدر کو ارسال کردہ اپنے پیغام میں عباس نے کہا "حماس کو اپنا اسلحہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہو گا، کیونکہ ہم ایک غیر مسلح ریاست چاہتے ہیں۔"
انھوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے۔ عباس کے مطابق ہر جماعت یا امیدوار جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے اسے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے سیاسی پروگرام، بین الاقوامی وعدوں، عالمی قانونی جواز اور "ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک قانونی سکیورٹی فورس" کے اصول کو ماننا ہو گا۔
صدر عباس نے فلسطینیوں کی موجودہ ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی جن میں فوری اور مستقل جنگ بندی، غزہ تک انسانی امداد کی مکمل رسائی، قیدیوں اور قیدیوں کی رہائی، اسرائیلی فوجی انخلا، ابتدائی بحالی اور تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس منگل 9 ستمبر کو نیویارک میں شروع ہو گا، جس میں فلسطینی ریاست کے با ضابطہ اعتراف کا معاملہ ایجنڈے پر حاوی رہے گا۔
عباس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب حماس نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی اپنے ہتھیار ڈالے گی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں طویل مدتی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی اور کہا "ہمارا موقف واضح ہے، ہم تمام اسرائیلی قیدیوں کو خواہ زندہ ہوں یا مردہ، رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔"
اسرائیل نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط بیان کی ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے اتوار کو بیت المقدس میں ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ کی جنگ اس صورت میں ختم ہوسکتی ہے اگر حماس قیدیوں کو رہا کرے اور اسلحہ پھینک دے۔
ایک روز قبل حماس نے اپنا پرانا موقف دہرایا تھا کہ وہ تمام قیدیوں کو اسی وقت چھوڑے گی جب اسرائیل جنگ ختم کرے اور فوج کو تباہ حال غزہ سے نکال لے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں اب بھی 47 قیدی موجود ہیں، جن میں سے 25 مارے جا چکے ہیں۔ یہ سب اُن 251 افراد میں شامل تھے جو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں پکڑے گئے تھے۔
دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی بم باری اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 64 ہزار 455 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ یہ اعداد و شمار حماس کے زیرانتظام وزارتِ صحت نے جاری کیے ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ معتبر قرار دیتی ہے۔