مکہ کی تاریخ و ثقافت اور 98 مقدس مقامات کے تحفظ و بحالی کے لیے غیر معمولی پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مکہ کی ثقافت اور تاریخ کو محفوظ کرنے اور اس کی ترقی و فروغ کے لیے ایک عظیم کوشش مملکت کے رائل کمیشن کی نگرانی میں ایک جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہے۔

تاکہ مکہ کے مقدس مقامات کی پوری درستگی اور صحت کے ساتھ تاریخ کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اس عظیم منصوبے کے تحت مکہ کا قیمتی ورثہ بھی محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید ترین ذرائع بروئے کار ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ زائرین کو پوری طرح مکہ کی ثقافت سے آگاہی بھی ملے اور جدید ترین ذرائع تک رسائی بھی کر سکیں۔
دنیا بھر سے آنے والے عازمین حج و عمرہ کے لیے یقینا یہ بہت دلچسپی کا مواد ہوگا۔

اس منصوبے میں مکہ کے اہم 98 مقدس مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔ جن میں سے 64 مقدس مقامات خصوصی ترجیح کے حامل ہیں کہ ان کے حوالے سے ترقی و فروغ کا کام دینی و تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے۔

ان منصوبوں کا 2023 میں افتتاح کیا گیا۔ حرا سے متعلق ثقافتی ضلع بھی شامل ہے۔ اسی طرح جبل رحمت کی بحالی اور اس سے جڑے انفراسٹرکچر کی اپگریڈیشن بھی شامل ہے۔ اس کا آغاز 2024 میں ہوا تھا۔

2024 کے اوائل میں عین زبیدہ کا افتتاح اور کنانہ کی سائیٹ کا کام ڈویلپمنٹ کمپنی کی شراکت داری سے کیا گیا۔ اس میں ایک کلو میٹر پر محیط ہائیکنگ ٹریل، تفریحی مقامات اور ملٹی میڈیا ڈسپلے شامل تھے۔

2025 میں البیع مسجد کی بحالی، ایک مشہور فوڈ اسٹریٹ کا آغاز اور دو مقدس مساجد کے فن تعمیر کی نمائش میں اپ گریڈنگ کے ساتھ منصوبوں میں توسیع کی گئی ہے۔

دیگر اقدامات میں ام القریٰ یونیورسٹی میں ایک اسلامی مخطوطہ میوزیم کی تشکیل کا آغاز بھی شامل ہے۔

علاوہ ازیں ایک اہم اضافہ سیرت نبوی اور اسلامی تہذیب کے بین الاقوامی میوزیم کا افتتاح تھا۔ اس میں اسلامی مخطوطوں کا تحفظ شامل ہے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ اور سیرت النبی ایک کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔ ان موضوعات کے ساتھ ساتھ مسجد حرام میں ساڑھے تین لاکھ کتب اور تاریخی مخطوطوں کو تحفظ دیا گیا ، یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔

کمیشن کے سی ای او صالح الرشید نے کہا کہ یہ کوششیں مکہ مکرمہ کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو برقرار رکھنے اور فعال کرنے کے ایک مربوط وژن کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کثیر لسانی مواد کے ذریعے اسے پیش کرنا اور اسے وسیع تر ثقافتی مقامات سے جوڑنا مکہ مکرمہ کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی شناخت میں اضافہ کرے گا اور زائرین کے تجربے کو تقویت بخشے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں