جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی قطر پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر 9 ستمبر کو کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ تینوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ کارروائی قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ یہ حملے اس مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا مقصد تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔ وزراء نے فریقین پر زور دیا کہ فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔

قطر کے کردار کی حمایت

بیان میں قطر کے کردار کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا جو مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وزراء نے کہا کہ اولین ترجیح مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ہونی چاہیے۔

انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ شہر میں جاری اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے جو شہری ہلاکتوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ ساتھ ہی زور دیا گیا کہ اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کو پورے غزہ میں محفوظ طریقے سے کام کرنے دیا جائے۔

حماس سے متعلق مطالبہ

اس موقع پر یورپی وزرائے خارجہ نے کہا کہ حماس کے قبضے میں موجود تمام قیدیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، تنظیم کو غیر مسلح کیا جائے اور اسے غزہ کے اقتدار سے ہمیشہ کے لیے الگ کیا جائے۔

ٹرمپ اور قطری وزیراعظم کی ملاقات

ادھر ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کی شام نیویارک میں قطری وزیراعظم الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ملاقات میں دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے اثرات پر بات چیت ہوگی۔

امریکی ویب سائٹ "ایکسئیس" کے مطابق یہ ملاقات ٹرمپ کی جانب سے دوحہ کی حمایت اور اسرائیلی حملے کی مخالفت کا عندیہ ہے۔ قطر اس ملاقات کو اپنی سفارتی مہم کا حصہ قرار دے رہا ہے تاکہ اسرائیل پر جنگ ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جا سکے۔

6 افراد جاں بحق

واضح رہے کہ منگل کے روز دوحہ میں ایک عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس وقت حماس کے رہنما امریکی جنگ بندی تجویز پر غور کے لیے اجلاس میں مصروف تھے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام سے "خوش نہیں" ہیں۔

اسرائیلی حملے نے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو تعطل میں ڈال دیا اور اسرائیل کی عالمی سطح پر تنہائی میں مزید اضافہ کر دیا۔ سلامتی کونسل نے بھی اسرائیل کی اس مجرمانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں