سعودی عرب کے خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' کے مطابق تبوک کے علاقے حقل کے سلمان العمرانی نے اپنی جگہ کو ماضی کی بازگشت اور یادوں کو پیش کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
اس کی نجی جگہ اس کے ذاتی شوق اور کمٹمنٹ کی وجہ سے گزرے ہوئے وقتوں کے خوبصوت اور یاد گار جھلک کا گہوارہ بن گئی ہے۔
اس کے جذبے اور لگن نے ایک وسیع ورثہ ذخیرہ کر لیا ہے۔ اس قیمتی ذخیرے میں قرآن پاک کے قیمتی اور نادر نسخے، تاریخی اخبارات، پرانے طرز کے ٹی وی، یاد گار نوعیت کے ٹیلی فون سیٹ، قدیمی سلائی مشینیں، کیسٹ ٹیپ اور ماضی کی روایت کا حامل فرنیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس کی جمع کردہ یہ اشیاء ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کی اپنے ورثے سے محبت اور شوق کو ظاہر کرتے ہیں۔
العمرانی کے مطابق قومی ورثے سے ان کی محبت نے ہی انہیں یہ سب خزانے جمع کرنے کی تحریک دی۔ وہ نوجوان نسلوں کو ان کے آباؤ اجداد کی زندگیوں اور مملکت کے ارتقاء و ترقی کے سفر سے متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا وہ قومی ثقافتی تشخص کو فروغ دینے اور اس شناخت کو مضبوط کرنے کے لیے لوک نظموں اور گانوں کے ساتھ تاریخی آلات کو بھی جمع کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔