عرب ۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر دوحہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی خلیجی سربراہی اجلاس کے حتمی بیان میں مشترکہ دفاعی میکانزم کو فعال کرنے اور خلیجی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دے دیا گیا ہے۔
قطر میں مشترکہ خلیجی دفاعی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ خلیجی سربراہی کانفرنس کے مسودہ بیان میں قطر کی خودمختاری کی اسرائیلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی۔ تمام ملکوں اور تنظیموں سے قطر پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کرنے اور قطر کی تمام کارروائیوں میں اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
"يستحيل التعامل مع هذا القدر من الخبث والغدر".. أمير قطر: إذا كانت إسرائيل تريد اغتيال القيادة السياسية لحركة حماس.. فلماذا تفاوضها؟#العربية pic.twitter.com/Ft3Zks4rWN
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 15, 2025
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پیر کو منعقد عرب ۔ اسلامی سربراہی کانفرنس ، جو مشترکہ موقف کو مربوط کرنے اور دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتائج پر بات چیت کرنے کے لیے منعقد ہوئی تھی، کے اختتام کے بعد قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ "دوحہ سربراہی کانفرنس" ایک واضح پیغام ہے کہ عرب اور اسلامی ممالک قطر پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے سیشن کا افتتاح کیا اور اپنی گفتگو میں زور دیا کہ دوحہ پر ایک غدارانہ حملہ ہوا۔ یہ اسرائیلی جارحیت پوری دنیا کے لیے چونکا دینے والی تھی جس میں ایک قطری شہری سمیت کئی افراد جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے اس جارحیت کو ایک بزدلانہ دہشت گردی کا فعل قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر دو سال سے غزہ میں نسل کشی کی جنگ کو ختم کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔
الخارجية القطرية: قادة القمة أكدوا رفضهم العدوان الإسرائيلي على #قطر
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 15, 2025
#قناة_العربية pic.twitter.com/PVcLD57iK1
اسی تناظر میں امیر قطر شیخ تمیم نے کہا کہ اسرائیل کے لیے مذاکرات جنگ کی ایک حکمت عملی سے زیادہ کچھ نہیں ہیں، اسرائیلی حکومت کو یرغمالیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا اسرائیلی حکومت جنگ کا فائدہ آبادکاری کو بڑھانے اور موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ عربوں پر ایک حقیقت مسلط کردے گی۔ یہ نیتن یاہو کا خواب ہے کہ عرب خطہ اسرائیلی اثر و رسوخ کا علاقہ بن جائےگا۔ قطر کے امیر نے مزید کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کی جنگ جاری رکھنے پر بضد ہے اور یہ اس دوران بھی بضد ہے جب حماس اسرائیلی حملے کے وقت جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہی تھی۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ان کی اپنی ریاست کے قیام کی حمایت پر زور دیا۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے زور دیا کہ قطر پر اسرائیلی جارحیت نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ اس کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں اور سربراہان کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا جنہوں نے دوحہ پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین طہ نے فلسطینی مسئلے کے حل اور دو ریاستی حل کے لیے منعقدہ کانفرنس کے نتائج کے لیے تنظیم کی حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
-
اسرائیل کا دوحہ پر حملہ بزدلانہ کارروائی ہے:امیرقطر
قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے دارالحکومت دوحہ ...
مشرق وسطی -
قطر پر اسرائیلی حملے پر ہنگامی اجلاس، دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس آج ہوگا
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد ...
مشرق وسطی -
"قطر تنہا نہیں ہے۔ عرب اور اسلامی دنیا اس کے شانہ بشانہ ہے'': سربراہ عرب لیگ
اسرائیلی حملے کے تناظر میں عرب ممالک کا سربراہی اجلاس
مشرق وسطی