القسام بریگیڈز نے اسرائیلی یرغمالیوں کوغزہ کے مختلف مقامات پر منتقل کر دیا ہے : حماس ذرائع

ذریعے نے العربیہ کو باور کرایا کہ "اسرائیل کی شدید بم باری کے سبب یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ ہے".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر زمینی حملے کے دوسرے دن، حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ "القسام بریگیڈز" نے اسرائیلی یرغمالیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

ذریعے نے آج بدھ کے روز العربیہ کو بتایا کہ یہ نقل و حرکت یرغمالیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کی گئی۔

انھوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی شدید بم باری کے سبب یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ ہے ... ان کی زندگی پر غیر یقینی حالات چھائے ہوئے ہیں کیونکہ حملے مسلسل جاری ہیں"۔

اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے کل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ انھوں نے "سیاسی وجوہات کی بنا پر یرغمالیوں کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا، نیتن یاہو نے فوج اور سکیورٹی اداروں کے رہنماؤں کی رائے کو نظرانداز کر دیا"۔

نیتن یاہو نے حماس کو خبردار کیا کہ اگر یرغمالیوں کو نقصان پہنچایا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا "اگر کسی بھی یرغمالی کے سر کے بال کو بھی نقصان پہنچا، تو ہم انھیں (حماس کو) زندگی کے آخر تک زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے، اور ان کا خاتمہ اس سے بھی زیادہ تیزی سے آئے گا جتنا وہ سوچتے ہیں۔"

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حماس "اگر یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے تو وہ بھاری قیمت ادا کرے گی"۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے زور دیا کہ اسرائیلی فورسز یرغمالیوں کی زندگی کو اولین ترجیح دے رہی ہیں اور شہر میں فیصلہ کن مگر تدریجی پیش رفت کر رہی ہیں۔

دوسری جانب حماس نے زمینی حملے کے آغاز سے قبل ایک بیان میں اسرائیل پر یرغمالیوں کی زندگی کی ذمے داری عائد کی اور امریکہ کو بھی الزام دیا کہ وہ "اسرائیلی پروپیگنڈے" کے پیچھے چل رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ اب بھی 48 اسرائیلی یرغمالی غزہ کی پٹی میں محصور ہیں، جبکہ اسرائیلی اطلاعات کے مطابق ان میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں