اسرائیلی ریاست کا پڑوس: لبنان پر بمباری کر کے دو مزید لبنانی قتل کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی ریاست کے پڑوسی عرب ملک لبنان میں اسرائیلی ریاست کی طرف سے دباؤ کی پالیسی کے تحت بمباری کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رکھا گیا۔ تازہ اسرائیلی حملہ بعلبک کے علاقے میں کیا گیا۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔

لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی ' این این اے' نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست نے لبنانی علاقے بعلبک کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی ریاست ایک معمول کے مطابق لبنانی علاقوں میں اپنی بمباری اور ڈرون حملوں کو جاری رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ تاکہ اپنے پڑوسی لبنان کو پوری طرح دباؤ میں رکھ سکے۔ یہ حکمت عملی اسرائیلی ریاست کی لبنان سمیت ساری قریبی پڑوسیوں کے لیے برابر ہے اور کامیابی سے جاری ہے۔

تاہم لبنان کی خود مختاری کو بار بار تاراج کرنے کی وجہ اسرائیلی ریاست ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ بتاتی ہے۔ جس کے ساتھ اسرائیل کا 27 نومبر 2024 کو جنگ بندی کا باضابطہ معاہدہ طے پا گیا تھا۔

بعلبک شہر جسے بدھ کے روز ایک بار پھر نشانہ بنانے کی باری آئی وہ لبنان کا قدیمی شہر ہے۔ اس کی قدیم تاریخ کی وجہ سے یونیسکو نے اسے اپنی عالمی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔

بعلبک رومن دور کے معبدوں کا بھی یادگاری حوالہ ہے۔ اب اسے حزب اللہ کا ایک اہم گڑھ ظاہر کیا جاتا ہے۔

حزب اللہ آج کل تہرے دباؤ کی زد میں ہے۔ لبنانی حکومت نے اپنی فوج کے ذریعے اس سے اسلحہ واپس لینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ امریکہ اور اسرائیل لبنان کی نئی حکومت اور حزب اللہ دونوں کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں۔

بیروت کے مطابق امریکی منصوبے اور دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق لبنانی فوج کو حزب اللہ سے اگلے تین ماہ میں لازما اسلحہ واپس لینا ہوگا۔ اس سلسلے میں کوششیں جاری ہیں۔ تاہم حزب اللہ نے ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں