اسرائیل کی غزہ پر بے پناہ طاقت استعمال کرنے کی دھمکی، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی جاری

صبرہ محلہ میں سکول پر فضائی حملہ، درجنوں جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ہفتے کی صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے صبرہ محلے میں واقع ایک سکول پر فضائی حملہ کیا جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس سے قبل جمعے کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ شہر کو "بے مثال طاقت" سے نشانہ بنائے گی ۔ اس نے شہریوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ غزہ پر منگل سے زمینی آپریشن کے آغاز کے بعد سے شہر شدید بمباری کی زد میں ہے۔

غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق گذشتہ ماہ کے اختتام سے اب تک 4 لاکھ 50 ہزار فلسطینی غزہ شہر چھوڑ کر جنوبی علاقے کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ محکمہ شہری دفاع کے ڈائریکٹر محمد المغير نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "اگست میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے لاکھوں افراد جنوب منتقل ہوئے ہیں"۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ شہر سے نکلنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم بہت سے شہریوں نے بتایا کہ شہر چھوڑنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ جنوبی راستہ ضرورت مندوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ وقت اور اخراجات اس ہجرت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ’اَفیخای ادرعی‘ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ فوج "حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف غیر معمولی طاقت سے کارروائی جاری رکھے گی"۔ ان کے مطابق شہریوں کے لیے جنوبی طرف نکلنے کا واحد محفوظ راستہ شارع الرشید ہے۔

شہری دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ جمعے کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 11 افراد غزہ شہر کے رہائشی تھے۔

اسرائیل کو جاری فوجی کارروائی کے باعث عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کا بھی سامنا ہے، جبکہ غزہ کے ہسپتال اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل ہنگامی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں