العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق ہفتے کی صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے صبرہ محلے میں واقع ایک سکول پر فضائی حملہ کیا جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس سے قبل جمعے کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ شہر کو "بے مثال طاقت" سے نشانہ بنائے گی ۔ اس نے شہریوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ غزہ پر منگل سے زمینی آپریشن کے آغاز کے بعد سے شہر شدید بمباری کی زد میں ہے۔
الصحافي معين شلولة: غارات إسرائيلية على حي الصبرة في مدينة #غزة أسفرت عن سقوط ضحايا.. وأحزمة نارية تستهدف حي تل الهوى#قناة_العربية pic.twitter.com/ldhuthM3wg
— العربية (@AlArabiya) September 19, 2025
غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق گذشتہ ماہ کے اختتام سے اب تک 4 لاکھ 50 ہزار فلسطینی غزہ شہر چھوڑ کر جنوبی علاقے کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ محکمہ شہری دفاع کے ڈائریکٹر محمد المغير نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "اگست میں فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے لاکھوں افراد جنوب منتقل ہوئے ہیں"۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ شہر سے نکلنے والوں کی تعداد 4 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم بہت سے شہریوں نے بتایا کہ شہر چھوڑنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ جنوبی راستہ ضرورت مندوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ وقت اور اخراجات اس ہجرت میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ’اَفیخای ادرعی‘ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ فوج "حماس اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف غیر معمولی طاقت سے کارروائی جاری رکھے گی"۔ ان کے مطابق شہریوں کے لیے جنوبی طرف نکلنے کا واحد محفوظ راستہ شارع الرشید ہے۔
شہری دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ جمعے کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں 11 افراد غزہ شہر کے رہائشی تھے۔
اسرائیل کو جاری فوجی کارروائی کے باعث عالمی سطح پر بڑھتے دباؤ کا بھی سامنا ہے، جبکہ غزہ کے ہسپتال اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل ہنگامی صورتحال سے دوچار ہیں۔