"اسپیڈس" نے بحیرہ احمر میں تقریباً 1200 تجارتی جہازوں کے گزرنے کو محفوظ بنایا

یورپی یونین نے یہ مشن اس وقت شروع کیا جب جہازوں پر حوثیوں کے حملے بڑھ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یورپی یونین نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا بحری بیڑا، جو خطے میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے تحفظ پر مامور ہے، سال 2024 کے آغاز میں مشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک مغربی یمن کے قریب بحیرہ احمر میں تقریباً 1200 تجارتی جہازوں کا محفوظ طور گزرنا یقینی بنا چکا ہے۔

یورپی یونین کے بحری مشن "اسپیڈیس" نے جمعے کو پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں کہا "آج ہمارے مشن کو بحیرہ احمر میں شروع ہوئے 19 ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ اپنے عملے کے عزم کی بدولت ہم نے کئی چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور بحری سلامتی و علاقائی استحکام کے تحفظ میں اپنا کردار بڑھایا ہے۔"

مشن کی جانب سے جاری کی گئی ایک وڈیو میں بتایا گیا کہ اس عرصے میں اس کی جنگی کشتیوں نے جنوبی بحیرہ احمر سے گزرنے والے 1,177 سے زیادہ تجارتی جہازوں کو قریب سے سکیورٹی اور معاونت فراہم کی۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں حوثی ملیشیا کی جانب سے 2023 کے اواخر سے بین الاقوامی بحری جہاز رانی پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

"اسپیڈیس" نے وضاحت کی کہ اس کی جنگی کشتیاں اور عملہ اس مدت میں یورپی یونین کی مستقل موجودگی برقرار رکھنے، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے، بحری سلامتی کو مضبوط بنانے اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ پر کام کرتے رہے۔

یورپی بحری مشن نے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ "بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ آزادانہ جہاز رانی کے فروغ اور بحری سلامتی کے تحفظ" کے لیے پُر عزم ہے، بالخصوص ان سمندری تجارتی راستوں میں جو دنیا کے سب سے اہم اور سب سے زیادہ کمزور شمار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے یہ مشن 19 فروری 2024 کو اس وقت شروع کیا تھا جب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں میں تیزی آئی تھی۔ اس مشن کا ہیڈکوارٹر یونان کے شہر لارسا میں قائم ہے، جبکہ بیڑا یورپی ممالک کی جنگی کشتیاں، فریگیٹس اور عملے پر مشتمل ہے.

یہ مشن 21 یورپی ممالک کی شراکت سے چل رہا ہے، اور اس کے اہم مقاصد میں تجارتی جہازوں کو حملوں سے بچانا، بحری صورت حال کے بارے میں آگاہی کو بڑھانا، ممکنہ خطرات کی نگرانی اور ان کا جائزہ لینا اور شراکت داروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size