غزہ : جارحیت نہ رکی تو یرغمالیوں کو اسرائیلی پائلٹ کے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا، القسام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ہفتہ کے روز ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن کے ساتھ 'الوداع' کا لفظ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں جنگی جارحیت کا یہ سلسلہ نہ روکا تو باقی ماندہ اسرائیلی قیدی خطرے میں ہو سکتے ہیں۔

ان تصاویر میں اس ایک اسرائیلی پائلٹ کی بھی تصویر شامل ہے جو 1986 سے لاپتا ہے اور جسے لبنان کی فضاؤں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے 251 اسرائیلیوں کو گرفتار کیا تھا۔ جن میں سے 47 ابھی تک غزہ میں قید ہیں اور ان 47 قیدیوں میں سے 25 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

القسام کی طرف سے ان تصاویر کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جارحانہ ہٹ دھرمی اور ایال زمیر کی اندھی فرمانبرداری کی وجہ سے غزہ میں آپریشن شروع کرنے سے پہلے قیدیوں کی الوداعی تصاویر بنائی گئی ہیں۔

یاد رہے اسرائیلی فوج نے پچھلے کئی ہفتوں کی بمباری کے بعد منگل کے روز سے اسرائیلی فوج نے زمینی حملہ بھی شروع کر دیا ہے اور ٹینکوں سے غزہ کی تباہی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ جبکہ لاکھوں لوگوں کو غزہ شہر سے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ہفتہ کے روز اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے ایک بار پھر بھرپور احتجاج کیا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ میں جاری جارحیت کو روکے اوران کے پیاروں کو چھڑوانے کے لیے جنگ بندی معاہدہ کرے۔

ہفتہ کے روز القسام بریگیڈ کی طرف سے اسرائیلی قیدیوں کی جاری کی گئی الوداعی تصاویر میں 46 کو دکھایا گیا ہے جو ٹیلی گرام چینل کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ 1986 میں لبنان کی خانہ جنگی کے دوران جنوبی لبنان میں لاپتہ ہونے والے اسرائیلی پائلٹ کا نام نمایاں کیا گیا ہے۔

پائلٹ رون اراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے ابتدائی طور پر لبنان کے شیعہ گروپس نے پکڑا تھا اور اب اس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ مر چکا ہے۔ تاہم اس کی لاش کی باقیات کبھی بھی اسرائیل کو واپس نہیں کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size