جوہری ایران

امریکہ سے مذاکرات ہمارے مفاد میں نہیں ہوں گے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات تہران کے مفاد میں نہیں ہوں گے اور بالآخر "بند گلی" میں جا پہنچیں گے۔

ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر مغربی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ "امریکی فریق کہتا ہے کہ آپ کو بالکل بھی افزودگی نہیں کرنی چاہیے، لیکن ہم اس دباؤ کے آگے نہ پہلے جھکے اور نہ ہی اب جھکیں گے۔ کسی بھی معاملے پر دباؤ قبول نہیں کریں گے"۔

انہوں نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست جوہری مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ نہ صرف فائدہ مند نہیں بلکہ موجودہ حالات میں ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں"۔

خامنہ ای نے اپنے خطاب میں دہرا یا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ان کی تیاری کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی ہم منصبوں سے ملاقات کی تاکہ اتوار کو ممکنہ طور پر دوبارہ عائد کی جانے والی جوہری پابندیوں کو روکا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزیشکیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں۔

اسی دوران عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ان کا معائنہ کاروں کا ایک وفد ایران جا رہا ہے تاکہ اس صورت میں تیار رہے جب تہران اور یورپی طاقتوں کے درمیان اس ہفتے کوئی معاہدہ طے پا جائے اور عالمی پابندیوں کی بحالی سے بچا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے گروسی نے بتایا کہ وہ ایران، یورپی ممالک اور امریکہ کے ساتھ "گہری بات چیت" کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ چند دن ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ کوئی پیش رفت ممکن ہے یا نہیں اور یہی کوشش ہم سب کر رہے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں