خلیجی ملک قطر جسے اسی ماہ کے دوران اسرائیلی ریاست نے اپنے حملوں کا نشانہ بنا کر یہ پورے علاقے کو باور کرادیا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی رسائی ہر جگہ بشمول خلیجی ممالک میں بھی ممکن ہے کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے اپنے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ حملوں کے باوجود ان کا ملک غزہ میں جاری جنگ رکوانے کے لیے اپنی ثالثی کی کوشش کو جاری رکھے گا۔
امیر قطر نے دوحہ پر اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی مگر اس کے ساتھ ہی ثالثی سے پیچھے نہ ہٹنے کا بھی واضح اور دوٹوک اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی ریاست نے قطر پر یہ حملے 9 ستمبر کو قطری دارالحکومت دوحہ میں کیے تھے۔ اسرائیلی ریاست کی طرف سے حماس کی سیاسی قیادت پچھلے دنوں 9 ستمبر کو اسرائیلی ریاست کی بمباری کا نشانہ اس وقت بنائی گئی جب وہ صدر ٹرمپ کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ نئی تجویز پر ابتدائی مثبت جواب کے بعد باہمی مشاورت کے لیے قطری دارالحکومت دوحہ میں جمع ہوئی تھی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا یہ حملہ حماس کی قیادت پر کیا گیا تھا جو دوحہ میں جمع تھی۔
امریکی خصوصی نمائندہ برائے لبنان ٹام بیرک نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست 'سرحدوں کی پروا نہیں کرتی وہ جہاں چاہے جا سکتی اور کہیں بھی جا سکتی ہے۔'
اس صورت حال میں امریکہ کی طرف سے اسرائیلی ریاست کو قطر پر حملوں کے بعد بھی کسی سرزنش کا سامنا نہیں رہا ہے۔ یہ بڑی الارمنگ صورت حال ہے کہ خلیجی ملکوں پر حملوں کا اسرائیلی آغاز قطر سے کیا گیا ہے۔ جوکہ علاقے میں امریکی افواج کا سب سے اہم اور بڑا میزبان ملک ہے۔