سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک ہی لیڈر ہے جس کا کہنا مان کر اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی روک سکتا ہے۔ وہ بدھ کے روز فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اسرائیلی جنگ کا ' العربیہ ' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ذکر کر رہے تھے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے غزہ میں جاری جنگ کو کھلے الفاظ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جنگ قرار دیا۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے کے حق میں مہم کو سراہا اور کہا جو ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں انہیں فلسطینی ریاست کی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سعودی عرب اور فرانس کا فلسطینی ریاست کے لیے کردار قابل تعریف ہے۔ اب دونوں ملکوں کو امریکہ کو بھی ساتھ ملانے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔ کیونکہ ایک ہی ملک ہے جو اسرائیل کو ہر طرح سے جنگ بندی اور استحکام و امن کی طرف لا سکتا ہے۔ کوئی اور ملک ہے نہ ٹرمپ کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر یہ کر سکتا ہے۔
اس سوال پر کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کو غزہ جنگ کے دوران تسلیم کیے جانے کا صاف مطلب حماس کو انعام دینا ہے کہ اس کی کوشش سے عالمی برادری اس جانب متوجہ ہوئی اور مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ' اسرائیل جو کچھ کہہ رہا ہے یہ درست نہیں ہے بلکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔'
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلسل جاری جنگ اور نسل کشی حماس کو زیادہ فائدہ دے رہی اور اس کے مؤقف کو مضبوط کر رہی ہے۔ اسرائیلی ریاست فلسطینیوں کو جتنا ظلم کا نشانہ بنا رہی ہے فلسطینیوں کو یہ بات زیادہ درست لگتی ہے کہ اسرائیل نے ان کے حق زندگی سے بھی انہیں محروم کر رکھا ہے۔ حماس کو انعام اور فائدہ تو ان اسرائیلی اقدامات سے مل رہا ہے۔
انہوں نے کہا اسی طرح فلسطینیوں کی زمین چرانے سے بھی حماس کو تقویت اسرائیل دے رہا ہے کہ اسرائیل پچھلے ساٹھ برسوں سے فلسطینیوں کی زمین چوری کرنا جاری رکھے ہوئے۔ بلکہ اسرائیل نے اب اسے اپنی اعلانیہ پالیسی بنا رکھا ہے۔
اسرائیل کے قطر پر 'نائن نائن' کو کیے گئے حملے کے بارے میں سوال پر ترکی الفیصل نے کہا یہ حیران کن نہیں تھا۔ یہ درحقیقت اسی امر کا اظہار ہے جس کے لیے اسرائیل کا وجود ہے۔ وہ خطے میں امن کے حوالے سے ایک ناقابل اعتبار شراکت دار ہے۔ اس بات کی گواہی اس کی پوری تاریخ دیتی ہے۔