اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے اندر گہرائی تک پیش قدمی کے بعد جنگی طیاروں نے شہر پر فضائی حملے کیے، جن میں متعدد مقامات پر شدید آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بات العربیہ کے نمائندے نے آج جمعے کے روز بتائی۔
گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں زمینی کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں فضائی حملوں میں درجنوں افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔
حراست اور تلاشی
دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے صبح سویرے نابلس شہر، عسکر اور بلاطہ کیمپوں اور زواتا و کفر قلیل گاؤں میں چھاپے مار کر 22 شہریوں کو گرفتار کیا۔ یہ بات فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" نے بتائی۔
مقامی اور سکیورٹی ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوجی گاڑیاں نابلس کے مختلف علاقوں، بلاطہ اور عسکر کے پرانے اور نئے کیمپوں، کفر قلیل (نابلس کے جنوب میں) اور زواتا (مغرب میں) میں داخل ہوئیں۔ فوجیوں نے متعدد گھروں کی تلاشی لی اور ان کے سامان کو اکھاڑ ڈالا۔
العربیہ کی نمائندہ کے مطابق مغربی کنارے میں چیک پوسٹیں بکثرت اور گھیراؤ کی شکل میں موجود ہیں جو آمد و رفت میں شدید رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کی طرف سے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نتین یاہو آج جمعے کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے نیو یارک پہنچنے کے موقع پر گزشتہ شام کہا کہ وہ "اسرائیل کو مغربی کنارا ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے"۔
واضح رہے کہ1967 کی جنگ میں مغربی کنارے کے قبضے کے بعد اسرائیل نے یہاں آباد کاری کی حد اور تعداد میں اضافہ کیا۔ یہ بستیاں اس علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں جہاں سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر اسرائیلی کنٹرول ہے جس سے زمین کے ٹکڑوں میں مزید تقسیم بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی آباد کاری کا ایک منصوبہ جسے (E1) منصوبہ کہا جاتا ہے، گزشتہ اگست میں حتمی منظوری پا چکا ہے۔ اس کا مقصد مغربی کنارے کو تقسیم کرنا اور مشرقی بیت المقدس سے الگ کرنا ہے۔
مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آباد کار 27 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہائش پذیر ہیں جنھیں اسرائیل نے ضم کیا تھا۔ ایک اقدام جسے زیادہ تر ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔
اسرائیل مغربی کنارے پر کنٹرول چھوڑنے سے انکار کرتا ہے۔ ایک موقف جو کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے غزہ کے اطراف کی بستیوں اور فوجی اڈوں پر کیے گئے مسلح حملے کے بعد مزید مضبوط ہوا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بیشتر بین الاقوامی برادری مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی مانتی ہے۔
-
غزہ منصوبہ قبول کرنے کے لیے امریکی دباؤ ... نیتن یاہو کے انکار کا راز کیا ہے ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مغربی ...
بين الاقوامى -
غزہ کے انتظام کی منصوبہ بندی کے تمام عناصر موجود ہیں اور جنگ بندی کے منتظر ہیں : مصر
مصری وزیر خارجہ نے زور دیا کہ فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اقوام ...
بين الاقوامى -
غزہ میں اسرائیلی جنگ : مغربی کنارے اور اردن کی راہداری کو دوبارہ کھولا جائے گا
اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے اور اردنی راہداری کو دوبارہ کھولے گا۔ بتایا گیا ہے کہ ...
مشرق وسطی