بین الاقوامی طبی جریدے 'بی ایم جے' کے مطابق غزہ میں زخمیوں اور مریضوں کی حالت تصور سے بھی زیادہ ہولناک اور تکلیف دہ ہے۔ اسرائیلی ریاست کی فوج نے غزہ میں صحت کی سہولیات کو تباہ کر دیا ہے اور غزہ تک بین الاقوامی طبی معالجین اور دیگر اداروں کی رسائی انتہائی محدود کی جا چکی ہے۔
طبی رسالے کی یہ رپورٹ ہیومینیٹیرین ہیلتھ ورکرز سے کیے گئے ایک جائزے کی بنیاد پر ہے جو شمالی امریکہ و یورپ سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر زخمیوں اور مریضوں کو دیکھنے کے لیے آئے تھے۔
بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسز نے دیگر تمام بین الاقوامی تنازعات میں غزہ کے بیماروں کی حالت کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا اور یہ صورتحال پچھلے تقریباً دو سال کی اسرائیل کی غزہ جنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔
اس تحقیقی رپورٹ کو مرتب کرنے والوں میں مرکزی کردار برطانوی سرجن عمر التاجی کا ہے جنہوں نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ یہاں انسانی بنیادوں پر دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے ہیلتھ ورکرز ایسے کئی علاقوں میں کام کر چکے ہیں جو تنازعات کے مراکز تھے۔ لیکن جو کچھ انہوں نے غزہ میں دیکھا ہے وہ سب سے بڑی چیز ہے اور ایسے برے حالات غزہ کے علاوہ وہ کہیں نہیں دیکھ سکے۔
غزہ سے واپسی کے تین ماہ بعد تک ان ڈاکٹروں نے اپنے ریکارڈ کی مدد سے اگست 2024 سے فروری 2025 کے درمیان وہاں ہر دیکھے زخمیوں اور مریضوں کے حالات پر مبنی ایک سروے کے جوابات دیے۔ جس میں 23700 ایسے زخمیوں کا ذکر ہے جنہیں ہتھیاروں سے زخم لگے ہیں۔
غیر معمولی طور پر سنگین صورتحال
کسی بھی جنگ میں زخمیوں کا ریکارڈ مرتب کرنا اب پہلے کی طرح مشکل نہیں رہا۔ جیسا کہ غزہ کے زخمیوں کے حوالے سے بھی یہ ڈیٹا صورتحال کو سنگین تر بتاتا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی ریاست کی طرف سے اندھا دھند اور بے رحمانہ انداز میں مسلسل بمباری کی جاتی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق دو تہائی شہری اسی بمباری اور ہتھیاروں کے استعمال سے زخمی ہوئے ہیں اور یہ تعداد حالیہ برسوں کے جنگی واقعات میں دو گنا زیادہ ہے۔
البتہ افغانستان اور عراق میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے لوگوں کی تعداد بھی اس کے قریب رہی۔
سرجن عمر التاجی نے مزید توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا بلاشبہ یہ حقیقت انتہائی نمایاں اور امتیازی ہے کہ شہریوں کو فوجیوں کی طرح اپنے تحفظ و دفاع کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اس لیے وہ بمباری کا براہ راست آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عمر التاجی نے کہا غزہ کی اس جنگ میں ایسے زخمیوں کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر زیادہ دیکھنے میں آئی ہے جو بمباری سے بھڑکنے والے شعلوں سے جھلس گئے ہیں۔
انہوں نے کہا جب میں غزہ میں تعینات تھا تو میں نے بچوں کے زخمی ہونے کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر زیادہ دیکھی۔ خصوصا ان بچوں کی جن کے جسم آگ سے جھلس چکے تھے اور زخموں کی وجہ سے ان کی ہڈیاں نظر آتی تھیں۔
غذائی قلت اور پانی کی عدم دستیابی بھی ان بچوں کے لیے خاص طور پر غزہ کی پٹی پر بیماری کی بڑی وجہ ہے۔ جیسا کہ ماہ اگست میں اقوام متحدہ نے بھی غزہ میں قحط کا اعلان کیا۔
برطانیہ کے امپیریئر کالج لندن میں دھماکوں سے لگنے والے زخموں کے علاج کے ماہر پروفیسر انتھنیبل نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا غزہ میں زخمیوں کو دیکھنا ایک بہت اہم کام ہے۔
انہوں نے اس امر کی بھی نشاہدہی کی کہ ہم صرف ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جن کی زخموں کے بعد جان بچ گئی اور ان تک ہیلتھ کیئر ورکرز پہنچ سکے باقی اس کے علاوہ ہیں۔
بدترین حصہ
اس مرتب کردہ جائزہ رپورٹ میں ہیلتھ کیئر ورکرز کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ آزادانہ سب کچھ لکھ سکتے ہیں جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیلتھ ورکرز نے دیکھا سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعات یہ تھے کہ مائیں اپنے فوت شدہ بچوں کی زندگی کے لیے ان ورکرز کے سامنے ہاتھ جوڑتی تھیں۔
ایک فزیشن نے دوسرے سے کہا کہ اس طرح کے واقعات دیکھ کر کہ بچے اس تکلیف میں تھے اور ایک دوسرے کو مرتا دیکھتے تھے تو انہوں نے خودکشی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
سروے میں ہیلتھ کیئر ورکرز کا کہنا تھا کہ انہوں نے بہت مشکل حالات میں کام کیا۔ ایسے حالات میں کہ جب کسی بھی چیز کی سپلائی نہ تھی۔ نہ دوائی نہ طبی آلات، نہ مریضوں اور زخمیوں کے لیے خوراک اس لیے ہمارے سامنے یہی سوال رہتا تھا کہ ہم ان زخمیوں کی کس طرح مدد کریں۔
عمر التاجی نے کہا وہ پچھلے مئی میں غزہ کے یورپی ہسپتال پہنچے تھے۔ اس سے چند روز پہلے ہی اسرائیل نے رفح پر حملہ کیا تھا۔ جہاں رات کے اختتام تک اوسطاً 70 کے قریب زخمی لوگ لائے جاتے تھے۔ جن کے لیے خون کا بندوبست کرنا بھی ایک مشکل عمل تھا۔
ایک رات ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنے پاس زیر علاج زخمیوں کے لیے اپنا خون دے کر ان کی جان بچانے کی کوشش کی۔
یاد رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران اب تک 65000 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 167000 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
ان ہلاک شدگان اور زخمیوں میں سب سے زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے باوجود جیسے جیسے زخمیوں کی حالت زیادہ خراب نظر آتی ہے غزہ کی پٹی میں ہیلتھ کیئر ورکرز کی آمد پر اتنی ہی زیادہ قدغنیں لگائی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا اس طرح ہیلتھ کیئر ورکرز کی غزہ میں آمد کو روکنے سے اموات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔ یہ صرف اسرائیلی ریاست کے پاس اختیار ہے کہ وہ جب چاہے غزہ میں داخل ہونے والی اشیائے خوردونوش کے علاوہ ہیلتھ ورکرز کی آمد کو روک دیتی ہے۔