غزہ میں فوج کو 'کارروائی کی مکمل آزادی' دی جائے: اسرائیلی وزیر کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ نے پیر کو اصرار کیا کہ فوج کی غزہ میں "کارروائی کی مکمل آزادی" برقرار رہنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے سامنے آیا ہے۔

توقع ہے کہ اس ملاقات میں ٹرمپ نتن یاہو پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ان کے 21 نکاتی امن منصوبے سے اتفاق کریں جو تنازعے کے تقریباً دو سال بعد تجویز کیا گیا ہے۔

ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے "سرخ لکیروں" کے ایک سلسلے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کا انحصار "کارروائیوں، زمین پر ہماری گرفت اور غیر سمجھوتہ کن نفاذ پر ہے جو صرف (اسرائیلی فوج) اور ہماری دفاعی اسٹیبلشمنٹ پر منحصر ہے"۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج "فلاڈیلفی راہداری میں مستقلاً رہے (اور) پورے غزہ کی پٹی میں کارروائی کی مکمل آزادی برقرار رکھے"۔

غزہ-مصر سرحد سے متصل اس راہداری کو اسرائیل فلسطینی سرزمین میں ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق ٹرمپ منصوبے میں اسرائیل کا علاقے سے انخلاء شامل ہے۔

سموٹریچ نے مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے لیے غزہ کے مستقبل میں کسی بھی کردار کو بھی مسترد کر دیا جو ٹرمپ منصوبے کے متنازعہ ترین پہلوؤں میں سے ایک ہے۔

سموٹریچ نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی سرزمین کے مستقبل میں قطری مداخلت بھی نہ ہو۔

انہوں نے لکھا، "قطر کی منافقت اور دو رنگی ختم کرنے کا وقت آگیا ہے جو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور مالی اعانت کرتا ہے۔"

نیتن یاہو کے تبصروں کی بازگشت کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ "کسی فلسطینی ریاست کا اشارتا بھی کوئی ذکر نہ ہو جو اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈالے۔"

مغربی کنارے کے لیے اسرائیلی بائبل کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے سموٹریچ نے امید ظاہر کی کہ "سیاسی اور عملی طور پر یہ حقیقت ثابت کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے تاریخی موقع سے فائدہ اٹھایا جائے کہ یہودیہ و سامریہ اسرائیل کی خودمختار ریاست کا ایک لازم و ملزوم حصہ ہیں۔"

ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے نیتن یاہو کو مغربی کنارے کے الحاق کے خلاف خبردار کیا جس کا اسرائیلی کابینہ کے ارکان نے مطالبہ کیا تھا۔

اپنی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے نیتن یاہو کا انحصار سموٹریچ کی مذہبی صہیونیت پارٹی پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں