اسعد الشیبانی کی کرد رہنما الہام احمد کے ساتھ ملاقات کی ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟

پیرس ایک خود مختار انتظامیہ اور شامی حکومت کے وفد کے مذاکرات کو ایک عرب ملک کو منتقل کرنے کے لیے کام کر رہا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شمالی اور مشرقی شام کی خود مختار انتظامیہ اور شامی حکومت کے ایک وفد کے درمیان دمشق میں مذاکرات کا ایک نیا دور ہونا تھا۔ دو ماہ قبل پیرس میں اسی طرح کے ایک دور کی ناکامی کے بعد۔ کیا ہوا اور شام کے دارالحکومت میں کل جمعرات کو ہونے والی ملاقات کیوں منسوخ ہوئی؟ اور کس نے اس میں شرکت کرنا تھی؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی طرف سے حاصل کردہ خصوصی معلومات کے مطابق امریکہ نے دمشق میں شامی حکام اور خود مختار انتظامیہ کے وفد کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے دور کو مربوط کیا ہے۔ یہ وفد شام کی چار گورنریٹس حلب، الرقہ، الحسکہ اور دیر الزور میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف ) کی نمائندگی کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل کردہ معلومات کے مطابق کرد رہنما شامی دارالحکومت دمشق سے نکل کر چند گھنٹے قبل ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں میں پہنچے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خود مختار انتظامیہ کے شعبہ خارجہ تعلقات کے شریک سربراہ کرد رہنما الہام احمد کی شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی سے جمعرات کو دمشق میں ملاقات متوقع تھی۔ دونوں فریقوں سے تعلقات رکھنے والے امریکی حکام نے 10 مارچ کو ایک معاہدے کا اہتمام کیا تھا۔

شامی صدر احمد الشرع شامی ڈیموکریٹک فورسز کے کمانڈر انچیف مظلوم عبدی کے ساتھ نمودار ہوئے اور انہوں نے کردوں کے حقوق کی آئینی ضمانت دیتے ہوئے ایس ڈی ایف کو شامی انتظامیہ میں ضم کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا۔ اس معاہدے میں بے گھر افراد کی واپسی، سابق حکومت کی باقیات کے خلاف لڑائی اور تیل کے وسائل اور سرحدی گزرگاہوں کے انتظام سے متعلق دیگر شقیں بھی شامل تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دو ذرائع جن میں ایک شامی وزارت خارجہ کے قریب اور دوسرا خود مختار انتظامیہ سے تھا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اسعد الشیبانی نے الہام احمد سے ملنے سے انکار کردیا کیونکہ اس نے امریکی حکام کے دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اجلاس میں مظلوم عبدی اور احمد الشرع کے درمیان طے پانے والے 10 مارچ کے معاہدے پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا جانا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب دمشق نے خود مختار انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات منسوخ کیے ہیں۔ اس نے پہلے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں خود مختار انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور منعقد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پیرس اس خود مختار انتظامیہ اور شامی عبوری حکام کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا گیا کہ فرانسیسی وزارت خارجہ شامی مسلح افواج میں ایس ڈی ایف کے انضمام تک دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی عمل کی حمایت کرتی ہے۔ فرانسیسی ذرائع کے مطابق پیرس اس وقت خود مختار انتظامیہ اور دمشق کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو کسی ایسے عرب ملک کو منتقل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جس کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔ خود مختار انتظامیہ اور دمشق (شامی حکومت) نے 10 مارچ کے معاہدے کے بعد عوامی سطح پر بات چیت شروع کی جس میں ہر فریق دوسرے پر اس کے نفاذ سے بچنے کا الزام لگاتا ہے۔ خود مختار انتظامیہ شامی فوج کے اندر ایس ڈی ایف کی خصوصی حیثیت کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔ دمشق نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف کا سب سے نمایاں نکتہ حکومت کی شکل سے متعلق ہے۔ خود مختار انتظامیہ ایک غیر مرکزی ریاست کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جب کہ شام کے نئے حکام، جو گزشتہ دسمبر میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوئے، ایک مرکزی ریاست پر اصرار کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں