اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے اندر اور اس کے اطراف میں تین اسٹریٹیجک مقامات پر طویل المدتی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام قیدیوں کے تبادلے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق تدریجی فوجی انخلا کے بعد بھی جاری رہے گا۔
نشریاتی ادارے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے واشنگٹن کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں ایک تفصیلی منصوبہ شامل ہے۔ اس کے مطابق فوج غزہ کی سرحد کے اندر ایک بفر زون میں مصر کی سرحد پر فلاڈیلفیا محور اور ٹیلہ70 کے علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔
ٹیلہ 70 جسے مقامی طور پر ’المنطارٹیلہ‘ کہا جاتا ہے مشرقی غزہ کے علاقے الشجاعیہ کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ مقام سطح سمندر سے تقریباً 70 میٹر بلند ہے اور شمالی غزہ کے وسیع علاقوں بشمول غزہ شہر، جبالیہ قصبے اور جبالیہ کیمپ پر براہِ راست نگرانی اور کنٹرول کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ تینوں مقامات اسرائیل کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ اسے میدان میں برتری، نگرانی اور سکیورٹی کنٹرول کی سہولت دیتے ہیں۔ ادارے کے مطابق واشنگٹن بھی ان مقامات پر اسرائیل کی عارضی موجودگی کی "ضرورت" کو سمجھتا ہے، حتیٰ کہ انخلا کے پہلے مرحلے کے بعد بھی یہ مقامات خالی نہیں کیے جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج تمام قیدیوں کی بازیابی کے بعد لڑائی والے علاقوں سے انخلا شروع کرے گی۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے غزہ کے اندر "پیلی لکیر" تک محدود رہے گی، جس کے بعد امریکی نگرانی میں تعینات غیر ملکی افواج کے آنے پر مزید پیچھے ہٹ کر "سرخ لکیر" تک چلی جائے گی تاکہ سکیورٹی صورتحال ان کے حوالے کی جا سکے۔
حتمی مرحلے میں اسرائیلی فوج غزہ کی سرحدی پٹی پر دوبارہ منظم ہوگی تاہم وہ فلاڈیلفیا اور ٹٰیلہ 70 پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی تاکہ مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی بمباری غزہ میں جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے حماس "پائیدار امن" کے لیے تیار ہے، اور انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے "فوراً" غزہ پر بمباری روک دے۔
ٹرمپ کا بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے امریکی منصوبے کے مطابق تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
درایں اثنا مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز اسرائیل اور حماس کے دو وفود کی میزبانی کرے گا، تاکہ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات پر بات چیت کی جا سکے۔