اسرائیل کو ٹرمپ امن منصوبے کے مطابق غزہ میں پہلے سے جنگ بندی کرنی چاہیے تھی : قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا جس طرح کہ صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے جنگ بندی منصوبہ دے دیا ہے اسرائیل کو اب پہلے سے جنگ بندی کرنی چاہیے۔ قطری ترجمان ماجد الانصاری نے اس امر کا اظہار منگل کے روز کیا ہے۔

ترجمان نے کہا جنگ بندی کے حوالے سے یہ سوال سب سے پہلے اسرائیل سے براہ راست کیا جانا چاہیے جس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ خصوصاً اگر وزیر اعظم کا یہ بیان ٹرمپ کے امن منصوبے کے بارے میں سچ پر مبنی ہے تو اس پر اسرائیل کو عمل کرنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے تھی اور جنگ بندی کر دینی چاہیے تھی۔ ماجد الانصاری دوحہ میں رپورٹرز سے بات چیت کر رہے تھے۔

یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مصر میں جاری ہیں۔ تاکہ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے پر اپنی رائے اور تحفظات جو بھی ہو اسے سامنے لا سکیں۔ نیز بعد از جنگ غزہ میں تعمیر نو کے روڈ میپ پر بات کر سکیں۔

جمعہ کے روز جب سے حماس نے ٹرمپ کے امن منصوبے پر مثبت رد عمل دیا ہے امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹروتھ سوشل' پر اسرائیل سے جنگ بندی کے لیے کہا ہے۔

ٹرمپ نے لکھا اسرائیل کو چاہیے کہ فوری جنگ بندی کرے تاکہ ہم جلد سے جلد اسرائیلی قیدیوں کو غزہ سے نکال سکیں۔

قطری ترجمان نے مصر میں اسرائیل اور حماس کے نمائندوں کے بالواسطہ مذاکرات پر کہا بلا شبہ مذاکرات کا یہ دور بہت اہم ہے اور تمام فریق غیر معمولی طور پر کمٹڈ ہیں کہ اتفاق رائے تک پہنچ سکیں۔ لیکن اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے کئی تفصیلات طے ہونا ہیں۔

ان کے مطابق امن منصوبے کی دفعات کا عملی انطباق کیسے ہوتا ہے یہ اہم معاملہ ہے۔ جس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام فریقوں کے درمیان رابطے ضروری ہیں۔

اس سوال پر کہ جنگ بندی کے بعد حماس کے دوحہ میں سیاسی دفتر کا مستقبل کیا ہے انہوں نے کہا یہ سوچنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ یہ اس وقت رہے گا جب تک حماس کے ساتھ رابطے کی ضرورت رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں