غزہ کے حوالے سے ٹرمپ منصوبے کو کامیاب بنانے کے خواہاں ہیں : مصری وزیر خارجہ
غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے سلسلے میں ہفتے کے آخر میں ایک اہم اجلاس ہوگا
مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی نے کہا ہے کہ شرم الشیخ میں جاری مذاکرات میں غزہ سے اسرائیلی انخلا کا طریقہ کار زیرِ غور ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ قاہرہ، امریکی منصوبے کی کامیابی کے لیے پرُ عزم ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں، سلووینیا کی نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ تانیا فایون اور نیدرلینڈز کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ فان فیل کی موجودگی میں، عبد العاطی نے بتایا کہ مختلف فریقوں کی شرکت سے ہونے والی بات چیت کا مقصد معاہدے کے پہلے مرحلے تک پہنچنا ہے، جس میں یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ، انسانی امداد کی فراہمی، ایک سیکیورٹی میکانزم کی تشکیل اور اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جا سکے۔ مذاکرات میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر بھی بات ہو رہی ہے تاکہ ابتدائی بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا جا سکے۔
عبد العاطی نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں ایک اہم اجلاس ہو گا جس میں غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے نفاذ سے متعلق تفصیلات پر غور کیا جائے گا۔ انھوں نے زور دیا کہ یہ عمل فلسطینی مسئلے پر مصر کے تاریخی کردار کا تسلسل ہے اور اس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انھوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے مصر کے اقدامات جاری رہیں گے۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ موجودہ پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو ریاستی حل کی سمت سیاسی عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ 1967 کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کو دار الحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔
شرم الشیخ میں پیر کو حماس اور اسرائیل کے وفود کے درمیان بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے۔ مصری ذرائع کے مطابق اجلاس میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے، جنگ بندی اور امداد کی ترسیل جیسے نکات زیرِ بحث آئے۔
ذرائع نے بتایا کہ بات چیت میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی، پائے دار امن اور انخلا کے دائرہ کار پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔
اتوار کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ خلیل الحیہ کی قیادت میں اس کا وفد مصر پہنچ گیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ مذاکرات کا محور جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا انخلا اور قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ حماس نے یہ پیشکش بھی دہرائی کہ وہ غزہ کا انتظام ایک غیر جانب دار فلسطینی اتھارٹی کو دینے پر تیار ہے جسے عرب اور اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہو۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا منصوبہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس مرحلے میں حماس کے پاس موجود 48 یرغمالیوں میں سے 20 کی رہائی شامل ہے، بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
-
اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی غزہ سے ایک راکٹ داغا گیا
شرم الشیخ میں ثالثوں اور حماس کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا اختتام ہو گیا
بين الاقوامى -
غزہ جنگ خاتمے کے قریب ۔۔ تاہم کچھ کام باقی ہیں: نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حماس ابھی ختم نہیں ہوئی؛ "ہم یہ منزل پا کر کے دم ...
بين الاقوامى -
"غزہ میں خون خرابہ روکنے کےلیے حماس فوری طور پر اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے"
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حماس غزہ میں ...
بين الاقوامى