اردن : شاہ عبداللہ دوم کی اردنی شہری کو کیمسٹری میں خدمات پر نوبل انعام ملنے کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے نوبل انعام کمیٹی کی طرف سے اردن کے شہری عمر یاگی کو کیمسٹری کے میدان میں انسانیت کے لیے خدمات انجام دینے کی بدھ کے روز تعریف کی ہے۔

عمر یاگی جنہیں دوسرے دو محققین کے ساتھ نوبل انعام میں شریک کیا گیا ہے۔ اردن کے ساتھ ساتھ امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

عمر یاگی بنیادی طور پر فلسطینی شہری ہیں جو اردن میں قائم ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ فلسطینی خاندانوں کو اسرائیلی قبضے کے بعد فلسطین سے جبری طور پر نکال دیا گیا تھا اور اردن و لبنان وغیرہ میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپ آج بھی باقی ہیں۔

عمر یاگی نے انہی فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں سے ایک میں پرورش پائی اور پھر نوبل انعام پانے والوں میں شامل ہوئے۔

ان کے ساتھ کیمسٹری کے شعبے میں خدمات کے لیے نوبل انعام میں شریک ہونے والے باقی جاپان کے سسومو کیتا گاوا اور برطانیہ رچرڈ روبسن شامل ہیں۔ ان تینوں کو ان کی میٹل آرگینک فریم ورک کے سلسلے میں نوبل انعام کا مستحق قرار دیا گیا یے۔

شاہ عبداللہ دوم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے کہ انہیں ایک اردنی سائنسدان کے نوبل انعام جیتنے پر فخر اور خوشی ہے۔ یہ پورے اردن اور اردنی عوام کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

شاہ اردن نے مزید کہا ہے ہمارے اس سائنسدان نے ثابت کیا ہے کہ اردن کے شہری اردن کے اندر ہوں یا باہر ہر جگہ اپنی امتیازی حیثیت و اہلیت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں