آج جمعے کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے با ضابطہ طور پر نافذ ہونے کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "میں نے تمام یرغمالیوں کو واپس لانے کا اپنا وعدہ پورا کیا"۔ انھوں نے بتایا کہ 20 یرغمالی زندہ ہیں جبکہ 28 ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ انھوں نے ’’ایرانی محور‘‘ کو توڑ دیا ہے جس کا ایک حصہ حماس بھی ہے۔
نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں بدستور موجود رہیں گی تاکہ حماس پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے اور وہ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ انھوں نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا "ہم نے حماس پر عسکری اور سیاسی دونوں محاذوں پر دباؤ ڈالا"۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق انھوں نے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو مسترد کیا جو کئی محاذوں پر حملہ نہ کرنے کے لیے ڈالا جا رہا تھا۔ ان کے الفاظ میں "میں نے حزب اللہ، حماس اور ایران کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے معاملے میں تمام دباؤ کو رد کیا"۔
تاہم ساتھ ہی نیتن یاہو نے کہا کہ "یہ لڑائی ختم نہیں ہوئی، خطے میں اب بھی بڑے چیلنج باقی ہیں"۔
انھوں نے کہا کہ "حماس نے پہلے یرغمالیوں کی رہائی سے انکار کیا تھا، لیکن جب اسے محسوس ہوا کہ گھیرا تنگ ہو رہا ہے تو وہ سمجھوتے پر آمادہ ہو گئی"۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل نے "حماس کے تمام کارڈز اس کے ہاتھ سے چھین لیے ہیں ... غزہ مستقبل میں ایک غیر مسلح علاقہ ہو گا"۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے آج صبح اعلان کیا کہ حکومت کی منظوری کے بعد جنگ بندی نافذ العمل ہو گئی ہے۔ تاہم فوج نے شہریوں کو متنبہ کیا کہ وہ بیت حانون، بیت لاہیا، الشجاعیہ، رفح کراسنگ، فلاڈلفیا راہ داری، خان یونس کے مختلف مقامات اور اسرائیلی فوجی چوکیوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
جنگ بندی کے آغاز کے بعد ہزاروں فلسطینی جنوبی غزہ سے شمالی علاقوں کی جانب بڑھنے لگے۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے جنگ بندی شروع ہوتے ہی ساحلی شاہراہ پر مرد، عورتیں اور بچے قطاروں کی صورت میں اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہوئے۔
گزشتہ بدھ کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ شرم الشیخ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے بعد طے پایا جن کی نگرانی مصر، قطر اور امریکا نے کی، جبکہ ترکی نے بھی اس میں شرکت کی۔ یہ اعلان ہزاروں محصور فلسطینیوں کے لیے دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے اختتام کی ایک کرنِ امید بن کر آیا۔
معاہدے کے مطابق اس وقت غزہ پٹی کا تقریباً 53 فی صد حصہ اسرائیلی کنٹرول میں رہے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں باقی علاقوں سے بھی انخلا عمل میں لایا جائے گا، یہاں تک کہ اسرائیلی فوج غزہ کی سرحدی حفاظتی پٹی تک محدود ہو جائے، جو مجموعی طور پر فلسطینی علاقے کے تقریباً 15 فی صد حصے پر مشتمل ہے۔