گزشتہ روز اسرائیلی جیلوں سے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے موقع پر اُس وقت کئی جذباتی اور دلوں کو چُھو لینے والے مناظر دیکھنے میں آئے جب یہ قیدی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اپنے خاندانوں سے دوبارہ جا ملے۔ ان افراد کی رہائی اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت عمل میں آئی۔
ان مناظر میں قیدیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو ... قید و اذیت کے اُن طویل برسوں کی گواہی دے رہے تھے جو انھوں نے اسرائیلی جیلوں میں گزارے۔
"My loved ones are gone."
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) October 13, 2025
This heartbroken Palestinian prisoner from Gaza lost all his children and his wife just weeks before his release. He made a gift for his two-year-old daughter, whose birthday falls on October 18. pic.twitter.com/HI1dBiZMqW
تاہم کئی فلسطینیوں کی کہانیاں دل توڑ دینے والی ثابت ہوئیں۔ ان ہی میں ایک منظر ایسا بھی تھا جس میں ایک فلسطینی باپ وہیل چیئر پر جیل سے رہا ہوا۔
مذکورہ فلسطینی اس وقت سکتے میں آ گیا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی اور تمام بچے اس کی رہائی سے محض چند ہفتے قبل اسرائیلی بم باری میں ہلاک ہو گئے۔
یہ باپ جو برسوں سے اپنی بیوی اور بچوں سے ملاقات کے خواب دیکھ رہا تھا، فرطِ غم سے زمین پر گر کر بلک بلک کر رونے لگا۔
مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق اُس نے اپنی دو سالہ بچی کے لیے ایک تحفہ بھی خریدا تھا ... جس کی سال گرہ 18 اکتوبر کو آنے والی تھی۔
یاد رہے کہ جمعے سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ عمل میں آیا۔ اس کے مطابق حماس نے تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ چار لاشیں بھی حوالے کیں، جب کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے تقریباً 1950 فلسطینیوں کو رہا کیا۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے 250 فلسطینی قیدی بھی آزاد کیے جن پر عمر قید یا طویل سزائیں تھیں، جن میں سے 100 کو فلسطینی علاقوں سے باہر بھیج دیا گیا۔