اسرائیلی جیلوں سے 27 سال بعد رہا ہونے والے فلسطینی ایمن الشرباتی کو مصر بھیج دیا گیا

ملک بدری کے بعد فلسطینی قیدی کی رہائی کی خوشی ایک نئے دکھ میں بدل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی جیلوں میں دو سال قید تنہائی سمیت مجموعی طور پر27 سال قید رہنے والے فلسطینی اسیر ایمن الشرباتی بالآخر آزاد ہو گئے۔ انہیں جمعے کے روز نافذ ہونے والے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا، جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا تھا۔

العربیہ سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ایمن الشرباتی نے کہا کہ "آزادی کی خوشی کسی اور احساس سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی، یہ ایک غیر متوقع خوشی تھی۔"

"ہماری انسانیت اور عزت پامال کی گئی"

انہوں نے بتایا کہ "آزادی سے محرومی ایک ایسی اذیت ہے جسے صرف وہی برداشت کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان اور مقصد کے لیے مضبوط یقین ہو۔ یہی یقین قید کے درد کو برداشت کرنے کا سہارا بنتا ہے"۔

ایمن الشرباتی کے مطابق "7 اکتوبر 2023ء کے بعد جیل کے محافظ انتقام کی پیاس میں انسانیت بھول گئے۔ انہوں نے ہمیں جھکانے اور ذلیل کرنے کی پوری کوشش کی۔"

ایمن الشرباتی کو 100 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، مگر دورانِ قید انہوں نے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور دو کتابیں لکھیں جن میں انہوں نے اپنی اور دیگر فلسطینی قیدیوں کی تکالیف کو قلمبند کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "فلسطینی قیدیوں کی تحریریں ہماری کہانی کو زندہ رکھتی ہیں تاکہ یہ بیانیہ ہمیشہ رواں اور مؤثر رہے۔"

معاہدے کے تحت حماس نے تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ 8 لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کیں، تاہم اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ایک لاش کسی قیدی کی نہیں تھی۔

اس کے بدلے میں اسرائیل نے تقریباً 1950 فلسطینیوں کو رہا کیا جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
مزید یہ کہ اسرائیل نے 250 ایسے فلسطینی قیدی بھی آزاد کیے جو عمر قید یا طویل سزائیں کاٹ رہے تھے، جن میں سے 100 کو فلسطینی علاقوں سے باہر بھیج دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size