اسرائیلی ریاست نے 10 اکتوبر سے نافذالعمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تیسرے روز ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کی خاطر رفح راہداری نہیں کھولی جائے بلکہ اسے جنگ بندی معاہدے کے باوجود بند رکھا جائے گا۔
اس اسرائیلی فیصلہ کے بارے میں تین مختلف اسرائیلی ذمہ داروں نے بتایا ہے کہ رفح راہداری سے انتہائی محدود ترسیل ہی جانے دی جائے گی کہ رفح راہداری کو جنگ کے دنوں کی طرح ہی بند رکھا جائے گا۔ یاد رہے رفح راہداری مصر سے جڑی ہوئی ہے جہاں امن سربراہ کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کئی بین الاقوامی راہنماؤں اور سربراہان حکومت کی موجودگی میں اعلان کیا کہ جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہوگیا ہے اور جنگ بند ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا ہے کہ حماس نے کئی اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی تلاش کے لیے زیادہ وقت لگنے کا کہا ہے کیونکہ ان کی تدفین کی جگہ دور تک پھیلے ملبے کے ڈھیروں کی صورت میں بدل چکی ہے جبکہ اسرائیلی قیدیوں کی حفاظت پر مامور کیے گئے القسام اہلکار بھی اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یاد رہے اب تک حماس نے زندہ اسرائیلی قیدیوں کے علاوہ مجموعی طور پر آٹھ قیدیوں کی لاشیں دو قسطوں میں واپس اسرائیل روانہ کی ہیں۔ تاہم یہ نہیں معلوم کہ باقی لاشیں ملبے سے نکالنے اور تلاش کرنے کا عمل کب تک چل سکتا ہے۔
عالمی ریڈ کراس نے بھی اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں حائل مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت پر قیدیوں کے اہل خانہ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔