غزہ میں کون سے قبائل اور مسلح گروہ حماس کےلیے چیلنج بن رہےہیں؟

رفح، خان یونس اور الشجاعیہ میں قبائل اور حماس کے درمیان جھڑپوں میں اموات، بعض گروہوں پر اسرائیل سے روابط کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کی جنگ کے دوران اپنی عسکری قوت میں کمی کے ساتھ ہی حماس کو اندرونی محاذ پر بھی بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے۔ فلسطینی علاقے میں کئی بااثر مقامی قبائل اور مسلح گروہوں نے حالیہ ہفتوں میں حماس کے خلاف صف بندی شروع کر دی ہے۔

گذشتہ جمعے کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد غزہ کے مختلف علاقوں میں پچھلے دو دن کے دوران حماس کے مسلح افراد اور بعض قبائل کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

ذیل میں ان اہم قبائل اور گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے افراد نے گزشتہ دو برسوں کے دوران حماس کے خلاف مسلح تصادم کیے۔

ابو شباب قبیلہ

رفح کے علاقے میں موجود یاسر ابو شباب حماس کے مخالف سرکردہ قبائلی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ جنوبی غزہ کے اس حصے میں سرگرم ہیں جو اب بھی اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ ہے۔

ان کے قریبی ذرائع کے مطابق ابو شباب کے گروہ نے درجنوں جنگجو بھرتی کیے ہیں اور انہیں پرکشش تنخواہیں دینے کی پیشکش کی ہے۔ حماس نے ان پر اسرائیل سے تعاون کا الزام لگایا ہے، تاہم ابو شباب نے اس کی تردید کی ہے۔

رفح کے مشرقی حصے میں ان کے قبیلے کے تقریباً چار سو مسلح افراد موجود ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ پورا قبیلہ ان کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے یا نہیں۔

دغمش خاندان

غزہ کے سب سے بڑے اور طاقتور قبائل میں شمار ہونے والا دغمش خاندان طویل عرصے سے مسلح مزاحمت کے لیے مشہور ہے۔ ان کے نزدیک اسلحہ اپنی زمین کے دفاع کے لیے ایک روایتی ضرورت ہے۔

قبیلے کے افراد مختلف فلسطینی گروہوں بشمول فتح اور حماس، سے وابستہ ہیں۔
ممتاز دغمش جو ماضی میں "عوامی مزاحمتی کمیٹیز" کے عسکری ونگ کی قیادت کرتے تھے، جنگ سے پہلے ہی لاپتہ ہو گئے تھے اور اکتوبر 2023 ءسے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

گذشتہ اتوار اور پیر کو حماس اور دغمش خاندان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں دونوں جانب سے ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم ممتاز دغمش کے ان جھڑپوں میں شریک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

غزہ میں حماس کے ارکان
غزہ میں حماس کے ارکان

المجایدہ قبیلہ

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں مقیم المجایدہ قبیلہ بھی بڑا اور اثر و رسوخ رکھنے والا گروہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس قبیلے کے افراد اور حماس کے مسلح گروہوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں حماس نے قبیلے کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جن پر حماس کے ارکان کے قتل کا الزام تھا۔ فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

قبیلے کے قریبی ذرائع نے حماس کے ان الزامات کی تردید کی کہ ان کے افراد کا ابو شباب سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس نے اس کارروائی کو مخصوص افراد کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کا جواز بنایا۔

تاہم پیر کے روز المجایدہ کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں غزہ میں "قانون و امن کے قیام کے لیے حماس کی سکیورٹی مہم" کی حمایت کا اعلان کیا اور اپنے قبیلے کے افراد سے تعاون کی اپیل کی۔

حلس قبیلہ

غزہ شہر کے الشجاعیہ علاقے میں موجود حلس قبیلہ بھی اہم قبائل میں سے ہے۔ چند ماہ قبل اس قبیلے کے رکن رامی حلس اور ایک اور معروف مقامی شخصیت احمد جندیہ نے ایک مسلح گروہ تشکیل دیا جو الشجاعیہ کے ان حصوں میں سرگرم ہے جو اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔
حماس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ "الشجاعیہ میں اسرائیل سے تعاون کرنے والے نیٹ ورک" کے خلاف کارروائی کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں۔ یہ واقعات جنگ بندی کے پانچویں روز پیش آئے۔

غزہ میں ان اندرونی اختلافات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ جنگ کے بعد کے مرحلے میں حماس کو نہ صرف اسرائیل بلکہ مقامی سطح پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں