خلیج عدن میں ایک ٹینکر بحری جہاز میں آگ لگ گئی، بچانے کی کوششیں جاری
کیمرون کے جھنڈے والا ٹینکر عمانی بندرگاہ سہار سے جبوتی جا رہا تھا، حوثیوں کی ملوث ہونے کی تردید
خلیج عدن میں ایک ٹینکر میں آگ لگ گئی۔ میری ٹائم سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹینکر ایم وی فالکن کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ٹینکر ابھی تک جل رہا ہے اور 18 اکتوبر کو دھماکے کے بعد خلیج عدن میں پھنس گیا ہے۔
یورپی یونین میری ٹائم مشن اور ذرائع نے پیر کو کہا کہ دھماکے کی وجہ واضح نہیں ہے لیکن ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ کارگو سے متعلق ایک حادثہ تھا۔ رائٹرز کے مطابق یورپی یونین میری ٹائم مشن نے مزید کہا کہ ایک نجی کمپنی ریسکیو آپریشن کو سنبھال رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آگ بجھانے والا جہاز پیر کو ایم وی فالکن کے قریب تھا۔ ایک ذرائع نے بتایا کہ امدادی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔ یورپی یونین میری ٹائم مشن نے علاقے میں سفر کرنے والے بحری جہازوں کو بھی اس واقعے کی وجہ سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
عملے کے دو ارکان لاپتہ
کیمرون کے جھنڈے والا ٹینکر عمانی بندرگاہ سہار سے جبوتی کی طرف جا رہا تھا اور مکمل طور پر لوڈ تھا ۔ یمن میں جی ایم ٹی وقت کے مطابق 7 بجے دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں اس کے 26 عملے کے بیشتر ارکان جہاز کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ تاہم عملے کے دو ارکان لاپتہ ہیں۔ عملے کے باقی افراد کو تجارتی بحری جہازوں کے ذریعے بحفاظت جبوتی پہنچا دیا گیا۔ تاہم حوثیوں نے اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
2023 کے بعد سے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز اسرائیل سے منسلک ہیں۔ اس اقدام کو انھوں نے غزہ کی حمایت کے طور پر بیان کیا ہے۔