اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے شام اور لبنان کی شمالی سرحدوں کے قریب ایسی فوجی مشقیں کی ہیں جن میں دفاعی اور جارحانہ دونوں قسم کے منظرنامے شامل ہیں۔
فوج کے بیان کے مطابق ’’اس ہفتے ڈویژن 91 کی مشق منعقد کی گئی تاکہ تیاری اور کارکردگی کو جانچا جا سکے اور فوجی دستوں کو مختلف ممکنہ منظرناموں پر تربیت دی جا سکے‘‘۔
اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ یہ دو برس بعد ڈویژن کی پہلی مکمل مشق ہے۔
واضح رہے کہ 8 اکتوبر 2023 ءسے اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے بعد لبنان میں حزب اللہ اور ایران کے ساتھ بھی دو الگ جنگیں ہو چکی ہیں جبکہ اسرائیل شام اور یمن میں بھی وقفے وقفے سے فضائی حملے کرتا رہا ہے۔
فوج کے مطابق منگل کے روز چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے مشق کا دورہ کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’یہ مشقیں پیر سے شروع ہوئیں اور جمعرات کو مکمل ہوگی۔ ان کا مقصد تمام محاذوں پر فوج کی جنگی تیاری میں بہتری لانا ہے‘‘۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ مشقوں کے دوران دفاعی اور جارحانہ دونوں طرح کے حالات میں ڈویژن کی تیاری اور صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر حزب اللہ کے ساتھ اس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے جو نومبر 2023 ءمیں نافذ ہوا تھا۔
دوسری جانب غزہ میں اس ماہ 10 اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا ایک نیا معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کے تحت نافذ ہو چکا ہے تاہم یہ معاہدہ فی الحال غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔
-
غزہ میں امدادکی اجازت دینےکےلیےاسرائیل کی ذمہ داریاں: یواین کی اعلیٰ عدالت فیصلہ سنائے گی
اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت بدھ کو غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے ...
مشرق وسطی -
حماس کے پاس اب بھی سیکڑوں راکٹ اور زیرِ زمین سرنگوں کی نصف تعداد موجود ہے : اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی چینل 12 نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس کے پاس درمیانی ...
بين الاقوامى -
فلسطینیوں تک انسانی امداد کی فراہمی سےمتعلق اسرائیلی ذمے داری ..عالمی عدالتِ انصاف کی رائے
توقع ہے کہ عدالت کی رائے میں دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے عملے کے لیے مطلوب لازمی ...
بين الاقوامى