غزہ میں امدادکی اجازت دینےکےلیےاسرائیل کی ذمہ داریاں: یواین کی اعلیٰ عدالت فیصلہ سنائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت بدھ کو غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں پر فیصلہ سنائے گی کیونکہ امدادی گروپ جنگ بندی کے بعد امداد میں اضافے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے ججز سے اس معاملے پر "مشاورتی رائے" طلب کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے آئی سی جے سے کہا کہ وہ امدادی اداروں کے حوالے سے بطور قابض طاقت اسرائیل کی ذمہ داریوں کو واضح کرے جس میں فلسطینیوں کی "بقا کے لیے ضروری اشیاء کی فوری فراہمی کو یقینی بنانا اور سہولت فراہم کرنا شامل" ہے۔

آئی سی جے کی رائے اور فیصلہ قانونی طور پر اسرائیل کو پابند نہیں کر سکتا لیکن عدالت کا خیال ہے کہ یہ "زبردست قانونی وزن اور اخلاقی اختیار" کا حامل ہے۔

آئی سی جے کے ججز نے اپریل میں درجنوں ممالک اور تنظیموں کی طرف سے پیش کردہ شواہد کی سماعت کی جن میں سے زیادہ تر انروا کی حیثیت سے متعلق تھے۔

اسرائیل نے سماعتوں میں حصہ نہیں لیا لیکن وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے اس وقت نامہ نگاروں کو بتایا، "مقدمہ اسرائیل پر نہیں، اقوامِ متحدہ اور انروا پر چلنا چاہیے۔"

آئی سی جے کی سماعتوں میں ایک امریکی اہلکار جوش سیمنز نے انروا کی غیر جانبداری کے بارے میں "سنگین تشویش" کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیل پر "خاص طور پر انروا کو ہی انسانی امداد فراہم کرنے کی اجازت دینے کی کوئی ذمہ داری نہیں" تھی اور یہ کہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے انروا واحد آپشن نہیں تھا۔

فلسطینی اہلکار عمار حجازی نے آئی سی جے کے ججز کو بتایا، اسرائیل بطور "جنگی ہتھیار" غزہ میں امداد روک رہا ہے جس سے لوگ فاقوں کا شکار ہیں۔

امداد 'بقا کے لیے ضروری'

انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے اپنی تنظیم کو تقریباً 60 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کی "بقا کے لیے ضروری" قرار دیا ہے۔

ایجنسی کا تقریباً 12,000 عملہ بدستور غزہ میں موجود ہے اور اس کا مقصد اکتوبر کے شروع میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد اس کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

ایجنسی کے مطابق اسرائیل جنگ کے آغاز سے اب تک انروا کے 370 سے زیادہ کارکنان کو ہلاک کر چکا ہے۔

آئی سی جے کے فیصلے کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی ترجمان برائے شرقِ اوسط عبیر عاطفہ نے کہا، اب یومیہ تقریباً 750 ٹن خوراک آ رہی ہے جو اگرچہ جنگ بندی سے پہلے کی نسبت زیادہ ہے لیکن ڈبلیو ایف پی کے ہدف 2000 ٹن یومیہ سے کافی کم ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کو غزہ جنگ پر بین الاقوامی قوانین کے تحت متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔

آئی سی جے کے ججز جنوبی افریقہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں اپنی کارروائیوں سے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں