حماس کے پاس اب بھی سیکڑوں راکٹ اور زیرِ زمین سرنگوں کی نصف تعداد موجود ہے : اسرائیلی میڈیا

اسرائیلی چینل 12 نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس کے پاس درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی ٹی وی "چینل 12" کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کا اندازہ ہے کہ حماس کے پاس اب بھی سیکڑوں راکٹ موجود ہیں، جن میں سے کچھ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ہیں اور وہ وسطی اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

چینل نے مزید بتایا کہ "حماس کے پاس اب بھی اپنی مجموعی سرنگوں کا نصف حصہ موجود ہے"۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ "زیرِ زمین ڈھانچہ اب بھی غزہ کی پٹی میں حماس کی طاقت کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔"

دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ غزہ سے بازیاب کی جانے والی دو مزید لاشوں کی شناخت اسرائیلی رہائشیوں تامیر اَدار اور آریے زَلمانویچ کے طور پر کی گئی ہے، جن کی تصدیق فرانزک ٹیسٹوں سے ہوئی۔

اس طرح جنگ بندی کے تحت ہونے والے معاہدے کے بعد حماس کی جانب سے اب تک اسرائیل کو 28 میں سے 16 یرغمالیوں کی لاشیں واپس مل چکی ہیں۔

ادھر بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس نے 15 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل سے غزہ منتقل کی ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا گیا۔

اس طرح فلسطینی فریق کو اب تک 165 لاشیں واپس مل چکی ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 68 ہزار 229 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 70 ہزار 369 تک پہنچ چکی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں سے 7 افراد اسرائیلی فوج کے براہِ راست حملے میں مارے گئے، جب کہ 6 لاشیں ملبے کے نیچے سے برآمد کی گئیں جن کی ہلاکت کچھ عرصہ پہلے ہوئی تھی۔ مزید 8 افراد زخمی بھی ہوئے۔
البتہ وزارت نے ان سات فلسطینیوں کی ہلاکت کی تفصیلات نہیں بتائیں جن پر براہِ راست حملہ کیا گیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 11 اکتوبر یعنی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں 87 فلسطینی موت کا شکار اور 311 زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت نے مزید بتایا کہ اب بھی متعدد لاشیں تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں اور سڑکوں پر موجود ہیں، جہاں امدادی اور شہری دفاعی ٹیمیں تاحال پہنچنے سے قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں