عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر تیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ ان کی انجمن نے انتہائی شدید بیمار 41 مریضوں اور 145کیئر ٹیکرز کو طبی بنیادوں پر غزہ سے باہر منتقل کروایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں تقریباً 15 ہزار مریض انخلا کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا ہم مسلسل ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور طبی انخلا کو تیز کرنے کے لیے تمام راستے کھولیں۔
بہت سے لوگ ایسے زخموں اور چوٹوں کا شکار ہیں جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران لگی تھیں، جبکہ دیگر لوگ دائمی بیماریوں جیسے کینسر اور دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن کا علاج غزہ کے زوال پذیر صحت کے نظام کے لیے ممکن نہیں ہے۔
جنگ کے دوران غزہ سے سات ہزار سے زیادہ مریضوں کا انخلا کیا گیا اور ان میں سے نصف سے زیادہ کو مصر نے اپنے ہاں علاج کے لئے جگہ دی۔
مئی 2024 میں رفح سرحدی راستہ بند ہوا اور اسرائیل کے کنٹرول میں آیا، انخلا کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مارچ میں سابقہ جنگ بندی کے ٹوٹنے کے بعد سے روزانہ چار سے کم مریض انخلا کر پاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے پہلے بتایا تھا کہ غزہ میں تقریباً 15600 مریض انخلا کے منتظر ہیں، جن میں 3800 بچے بھی شامل ہیں۔
رفح سرحدی راہداری، جو ماضی میں مریضوں کے مصر کے ذریعے روانگی کے لیے استعمال ہوتا تھی، اب بھی عبور کے لیے بند ہے۔
طبی تنظیمیں اور فلسطینی صحت کے حکام کہتے ہیں کہ سیکڑوں افراد انخلا کے انتظار میں فوت ہو گئے۔
عالمی ادارہ صحت جس نے پچھلے سال اس عمل کی نگرانی کی، اس کے مطابق 740 افراد بشمول 137 بچے، جو فہرست میں شامل ہیں جو جولائی 2024 کے بعد جاں بحق ہو گئے۔
اس سے پہلے اسرائیلی فوج کا وہ یونٹ جو غزہ میں امدادی سامان کی روانی کی نگرانی کرتی ہے اور جسے دفتر حکومت کے امور کی ہم آہنگی کہا جاتا ہے، اس نے بتایا تھا کہ منظوریوں کا عمل حفاظتی جائزوں کے تابع ہوتا ہے۔