قاہرہ میں موجود وفد تحریک کا نہیں بلکہ فلسطینی ریاست کا نمائندہ ہے : فتح تحریک

فلسطینی اتحاد کے خواہاں ہیں اور اس پر تحریک کے اندر کوئی اختلاف نہیں : ترجمان فتح تحریک کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی تنظیم "فتح تحریک" کے ترجمان اور فلسطینی قومی کونسل کے رکن جمال نزال نے کہا ہے کہ قاہرہ میں موجود فلسطینی وفد ریاستِ فلسطین کی نمائندگی کر رہا ہے، نہ کہ فتح تحریک کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی گروہوں بشمول حماس، سے رابطے کے لیے جو وفد تشکیل دیا گیا ہے اس کی نوعیت مختلف ہے۔

نزال نے ’’العربیہ/الحدث‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ریاستِ فلسطین کا وفد مصر کے اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچا ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی مصالحت اور قومی تقسیم کے خاتمے کے لیے عالمی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

فتح کے ترجمان نے مزید کہا کہ وفد کل قاہرہ سے واپس آنے کے بعد اپنی بات چیت کی تفصیلات فلسطینی قیادت کے سامنے پیش کرے گا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فتح تحریک فلسطینی اتحاد کی خواہاں ہے اور اس قومی مقصد پر تحریک کے اندر کوئی اختلاف نہیں۔

مصری میڈیا کے مطابق جمعرات کو قاہرہ میں حسین الشیخ کی سربراہی میں فتح کے وفد نے خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کے وفد سے ملاقات کی۔ دونوں وفود نے ’’قومی موقف‘‘ اور ’’غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات‘‘ پر بات چیت کی۔

دوسری جانب ’’العربیہ‘‘ کے ذرائع نے بتایا کہ قاہرہ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں وفود نے غزہ سمجھوتے کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے ملاقاتوں کے تسلسل اور فلسطینی صفوں کی تنظیمِ نو پر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اس پس منظر میں توقع ہے کہ قاہرہ آنے والے دنوں میں ایک جامع فلسطینی قومی مکالمہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس میں غزہ کے مستقبل پر غور کیا جائے گا۔

اس سے قبل فلسطینی ذرائع نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ ’’اس کانفرنس میں زیادہ تر فلسطینی جماعتیں شریک ہوں گی، جن میں حماس اور فتح دونوں شامل ہیں۔‘‘

ذرائع کے مطابق ’’قاہرہ نے اس اجلاس کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ غزہ کے مستقبل کا تعین کیا جا سکے، قومی تقسیم کے خاتمے، جنگ کے بعد کے انتظامات اور فلسطینی مسئلے کے آئندہ مرحلے سے متعلق نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔‘‘

ان ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’شرکا تنظیموں کے اندرونی ڈھانچوں پر بھی بات کریں گے، خاص طور پر حماس اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی تشکیلِ نو پر۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فلسطینی اتھارٹی کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق از سرِ نو فعال بنانے پر بھی غور کریں گے، تاکہ مشترکہ عمل کے لیے ایسی مفاہمتی شکل اختیار کی جا سکے جو غزہ میں انسانی اور انتظامی مسائل کے حل میں مدد دے۔‘‘

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 13 روز سے ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور اب توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر مرکوز ہو چکی ہے۔

ٹرمپ کے گزشتہ ماہ پیش کردہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیار ڈالنے، بین الاقوامی نگرانی میں ایک فلسطینی کمیٹی کے قیام اور ایک بین الاقوامی فورس کے تعینات کیے جانے کی تجویز شامل ہے جو غزہ میں فلسطینی پولیس کی تربیت و جانچ کے بعد ان کی مدد کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں