سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز

اقتصادی و سرمایہ کاری منصوبوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اور پاکستان نے باہمی اقتصادی مفادات اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کے تحت ایک نئے اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینا ہے۔

یہ اعلان ریاض میں سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

نئے فریم ورک کے تحت اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بات چیت شامل ہے، تاکہ نجی شعبے کے کردار کو بڑھایا جائے اور باہمی تجارت میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس میں توانائی، صنعت، معدنیات، معلوماتی ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے ترجیحی شعبے شامل ہیں۔

دونوں ممالک فی الحال کئی مشترکہ منصوبوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بجلی کے رابطے کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط شامل ہیں۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی "SPA" کے مطابق یہ فریم ورک دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ایک پائے دار شراکت داری کی بنیاد رکھنے کی مشترکہ کوششوں کا تسلسل ہے، جو دونوں ملکوں کی قیادت اور عوام کی توقعات کے مطابق ہے۔ اس سلسلے میں جلد "سعودی ۔ پاکستانی" اعلیٰ رابطہ کونسل کا اجلاس بھی متوقع ہے۔

یہ اقتصادی معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کے معاہدے کا اعلان کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر "ریاض یا اسلام آباد" میں سے کسی ایک پر مسلح بیرونی حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ستمبر میں دستخط کی جانے والی یہ دفاعی شراکت تاریخی پیش رفت قرار دی گئی، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کے امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کا ایک خود مختار اور قانونی حق ہے، جیسا کہ دیگر بین الاقوامی دفاعی معاہدوں میں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں