سعودی عرب اور پاکستان نے ترقیاتی و سرمایہ کاری اتحاد کی بنیاد رکھ دی : ماہر اقتصادیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے فریم ورک کا اجرا دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے مرحلے کی علامت ہے، جو روایتی تعاون سے مؤثر اور عملی شراکت داری کی جانب پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر علی الحازمی کے مطابق یہ فریم ورک تاریخی شراکت کی جڑوں سے ابھرا ہے اور ترقی، سرمایہ کاری اور استحکام کے نئے دور کی بنیاد رکھتا ہے۔

ڈاکٹر الحازمی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں بتایا کہ یہ فریم ورک سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا۔ اس کا محور ایسے اسٹریٹجک شعبے ہیں جو سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ہیں، جیسے توانائی، صنعت، معدنیات، معلوماتی ٹیکنالوجی اور غذائی تحفظ ۔ الحازمی کے مطابق یہ تمام شعبے جدید اور متنوع معیشتوں کی بنیاد ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کی اس سنجیدہ خواہش کا مظہر ہے کہ وہ محض رسمی تعاون سے نکل کر عملی شراکت داری کی طرف جائیں، جس کے تحت آزاد کمپنیوں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں عوام کے مفادات کو فروغ دیا جائے۔

اس نئے فریم ورک میں اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہے، جن سے دوطرفہ تعاون کو تقویت ملے گی، نجی شعبے کا کردار بڑھے گا اور باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا۔ ترجیحی شعبوں میں توانائی، صنعت، معدنیات، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ شامل ہیں۔

دونوں ممالک اس وقت کئی مشترکہ منصوبوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان برقی رابطے کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط شامل ہیں۔

گزشتہ برسوں میں ریاض اور اسلام آباد کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 33 ارب ریال رہا، جن میں صرف 2020 میں 9 ارب ریال کا تبادلہ ہوا، اگرچہ اس دوران عالمی وبا کورونا کے اثرات موجود تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں معدنی و تیل مصنوعات، پیٹروکیمیکلز، چمڑے، کپڑے، اجناس اور گوشت کی مصنوعات شامل ہیں۔

سرمایہ کاری کے میدان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سعودی وزارتِ سرمایہ کاری کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستانی کمپنیوں کو 52 سرمایہ کاری لائسنس جاری کیے گئے، جب کہ 2019 میں یہ تعداد 24 تھی، جو پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دل چسپی کا ثبوت ہے۔ مجموعی طور پر سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاری کی 362 تنصیبات رجسٹرڈ ہیں، جن میں 19 فی صد مشترکہ اور باقی مکمل طور پر پاکستانی ملکیت میں ہیں۔

وزارت کے اعداد کے مطابق تعمیرات اور پیداوار دو بڑے شعبے ہیں جن میں پاکستانی کمپنیاں سرگرم ہیں اور ان کی تعداد بالترتیب 148 اور 124 ہے۔ اس کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن، آئی ٹی اور ہول سیل و ریٹیل تجارت کے شعبے آتے ہیں۔

سعودی وزارتِ سرمایہ کاری دیگر اداروں کے تعاون سے سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے، جن میں مواقع سے آگاہی اور سرمایہ کاری کی ضروریات سے متعلق رہنمائی شامل ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں سعودی سفارت خانہ اور تجارتی مشن کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی متعدد سعودی کمپنیاں سرگرم ہیں، جن میں پٹرومین (گاڑیوں کے تیل)، الجمیح (توانائی و پانی)، صافولا (خوراک و ریٹیل) اور اکوا پاور شامل ہیں، جبکہ دیگر بڑی سعودی کمپنیاں بھی پاکستانی منڈی میں داخلے کے لیے پرعزم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں