ایران کی تجارت پر پابندیوں سے بچنے کے لیے علاقائی کرنسی اختیار کرنے کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے علاقے میں اپنے تجارتی شراکت داروں کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ باہمی تجارت کو ڈالر کی جکڑ بندی سے نکال کر علاقے کی سطح پر ایک مشترکہ کرنسی متعارف کرائی جائے۔ ایرانی صدر کی تجویز علاقائی سطح پر معاشی تعاون و اشتراک کو بڑھانے کے لیے قائم تنظیم ' ای سی او ' کے پلیٹ فارم سے منگل کے روز پیش کی ہے۔

اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن کا اجلاس ان دنوں ایرانی میزبانی تہران میں جاری ہے۔ جس کی سائیڈ لائنز میں مسعود پیزشکیان نے اپنی غیر رسمی گفتگو میں یہ تجویز پیش کی ہے۔

اس تنظیم کا آغاز 1980 کی دہائی میں ایران، ترکیہ اور پاکستان کی کوششوں سے ہوا تھا۔ تاہم اس تجارتی پلیٹ فارم میں مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والی کئی ریاستیں بھی شامل ہیں اور اس کے ارکان کی تعداد دس ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی سطح سے ایران کو ایک عرصے سے سخت پابندیاں جاری ہیں۔ یہ پابندیاں زیادہ تر امریکہ اور یورپی ملکوں نے عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے جس کو اسرائیل اور امریکہ نے پچھلے ماہ جون میں جنگی جارحیت کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس کی معیشت سخت مشکلات سے دوچار ہے۔ تاہم ایران اپنے پرامن جوہری مقاصد سے ہٹنے کو تیار نہیں۔

ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا تازہ ترین واقعہ ماہ ستمبر کے دوران اقوام متحدہ کی طرف انیشیٹ کی گئی ہیں۔ اس سے قبل کئی ماہ تک جوہری موضوع پر سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

مسعود پیز شکیان نے منگل کے روز 'ای سی او' کانفرنس کی سائیڈ لائنز میں بات چیت کرتے ہوئے کہا خطے کے ملک مذہبی اور ثقافتی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے علاقے میں باہمی بہتر اور قریبی تعاون کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ مشترکہ کرنسی کا اجرا بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ معاشی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔

ایرانی صدر کے دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق صدر مسعود پیزشکیان نے یہ بات تاجک وزیر داخلہ رمضان رحیم زادہ سے گفتگو میں کہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں اپنی جغرافیائی اہمیت سے آگاہی رکھنے والے ایران کی آبادی نوکروڑ سے زائد ہے اور یہ ملک خطے میں اپنی حیثیت کو موثر رکھنے کی کوشش میں ہے۔ خصوصاً اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک پل کے طور پر استعمال میں لانا چاہتا ہے۔

ایران اپنی سلامتی کو درپیش چیلنجوں اور اقتصادی پابندیوں سے درپیش گہری مشکلات سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ صدر پیزشکیان نے کہا اگر علاقے کے ملک معاشی اور ثقافتی اعتبار سے اکٹھے ہو جائیں تو وہ اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنی معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں