ریاض سرگرمیوں کی سیاحت میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ متحرک شہروں میں آ گیا ہے : سعودی وزیر

مجموعی مقامی پیداوار (GDP) میں سیاحت کا حصہ تقریباً 5 فی صد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزیرِ سیاحت احمد الخطيب کے مطابق مملکت کا دار الحکومت ریاض اب دنیا کے اُن شہروں میں شمار ہونے لگا ہے جو بڑی تقریبات اور سرگرمیوں کی سیاحت کے لحاظ سے سب سے زیادہ متحرک ہیں۔

وزیر نے یہ بات Future Investment Initiativeکانفرنس کے نویں ایڈیشن کے دوران ایک نشست میں کہی جس کا عنوان تھا "مصنوعی ذہانت اور سیاحت کا مستقبل"۔

احمد الخطيب نے بتایا کہ عالمی معیشت میں سیاحت کا حصہ تقریباً 18 فی صد ہے، جب کہ یہ دنیا کی مجموعی مقامی پیداوار (GDP) کا تقریباً 5 فی صد حصہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پانچ برسوں میں اس شرح کو دو گنا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یہ شعبہ عالمی سطح پر 10 فی صد ملازمتوں کا ذریعہ بن جائے۔

الخطیب نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس قدرتی اور جغرافیائی تنوع کی بیش بہا دولت ہے ... بلند پہاڑ، خوب صورت جزائر، تاریخی شہر جیسے الدرعیہ اور ساتھ ہی سعودی ثقافت اور مہمان نوازی کی وہ خصوصیات جو ملک کو دنیا بھر میں ممتاز کرتی ہیں۔ ان تمام عوامل نے مملکت کی سیاحتی کشش میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

الخطيب نے مزید بتایا کہ عالمی سیاحتی منڈیوں پر تفصیلی تحقیق کی گئی ہے اور 66 سے زیادہ ممالک پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو مجموعی طور پر عالمی سیاحتی منڈی کا 80 فی صد حصہ رکھتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان ممالک سے سعودی عرب کی اہم سیاحتی منزلوں جیسے ریاض، جدہ، العُلا اور بحیرہ احمر تک سفر کا ربط مضبوط کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مملکت میں شہروں کے درمیان سفری رابطے کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے اور فضائی کمپنیاں اپنی پروازوں میں اضافہ کر رہی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔

وزیرِ سیاحت نے بتایا کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال تین کروڑ سے زائد سیاحوں کو خوش آمدید کہا اور ہدف یہ ہے کہ 2030 تک ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد 5 کروڑ تک پہنچائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ مملکت کا جغرافیائی اور ثقافتی تنوع غیر معمولی ہے، جس کی بدولت سیاح مختلف سعودی شہروں میں قدرتی، تاریخی اور ثقافتی تجربات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سیاحت کا شعبہ روزگار فراہم کرنے والے سب سے بڑے شعبوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں