جوہری تنصیبات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں گے ، ایران کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل کی طرف سے جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی جوہری تنصیبات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنائیں گے۔

ایران کی طرف سے اتوار کے روز یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی کرانے والا ملک اومان اس امر پر زور دے رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان از سر نو مذاکرات اور سفارتکاری کا سلسلہ بحال ہو۔

اتوار کے روز ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے قومی جوہری ادارے کا دورہ کیا اور کہا ایران اپنی جوہری تنصیبات جنہیں تباہ کیا گیا ہے انہیں دوبارہ سے زیادہ مضبوط تعمیر کرے گا اور ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جا سکے گا۔

ان کا یہ بیان سرکاری ویب سائٹ پر ویڈیو کی شکل میں جاری کیا گیا ہے۔

بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے سائنسدان آج بھی جوہری امور سے متعلق مہارت رکھتے ہیں۔

ماہ فروری میں ایک جاری کیے گئے بیان میں ایرانی صدر نے انہی الفاظ کو اور طرح سے بیان کیا تھا کہ اگر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران ان جوہری تنصیبات کو نئے سرے سے تعمیر کر لے گا۔

یاد رہے اسرائیل نے 12 دن کے لیے ایران پر ماہ جون میں ایک جنگ مسلط کی جن کا اسرائیل کے مطابق سب سے اہم ہدف ایرنایث جوہری پروگرام کی تباہی تھا۔

اس مقصد کے لیے اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ تاہم اسے کامیاب بمباری کے لیے امریکہ سے مدد لینا پڑی اور بعد ازاں امریکہ بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حصہ بن گیا۔

اسرائیل نے ایرانی فوجی جرنیلوں اور اہم ترین سائنسدانوں کو بھی بڑی تعداد میں نشانہ بنایا۔ جوابا ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے۔ تاہم 12 دن جاری رکھنے کے بعد فریقین جنگ بندی پر رضا مند ہوگیے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ماہ جولائی میں کہا تھا کہ ایران میں جنگ سے ہونے والا نقصان کافی شدید اور سنگین رہا ہے۔

اب صدر مسعود پیزشکیان کا یہ بیان ہفتہ کے روز اس وقت سامنے آیا ہے جب اومان کی کوشش ہے کہ امریکہ و ایران از سر نو مذاکرات کو بحال کر لیں۔

اومان کے وزیر خارجہ بدر البو سعیدی نے امریکہ و ایران کے مذاکرات بحال کرانے کی اس خواہش کا اظہار بحرین میں جاری 'گلوبل سیکیورٹی اینڈ جیوپولیٹیکل کانفرنس' کے دوران کیا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان فاطمی مہاجرانی نے اتوار کے روز اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ایران کو اس طرح کا پیغام موصول ہوا ہے جس میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاہم اس کی تفصیلات انہوں نے جاری نہیں کیں۔

جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے پہلے اومان نے امریکہ و ایران کے درمیان جوہری امور پر مذاکرات کے 5 ادوار کی میزبانی کی تھی۔ تاہم چھٹے طے شدہ مذاکراتی دور سے 3 دن پہلے اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔ جس کے بعد ایران نے جوہری مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں