مزید تین قیدیوں کی لاشیں مل گئی ہیں : اسرائیلی ریاست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے اتوار کے روز کہا ہے کہ تین مزید ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی باقیات وصول کر لی ہیں۔ یہ لاشیں امن معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے تحت کی جارہی ہیں۔

حماس نے اسرائیل کے ہلاک شدہ قیدیوں کی لاشیں اور باقیات ملبے کے ڈھیروں سے نکال کر دی ہیں۔ یہ ملبے کے ڈھیر اسرائیلی تباہ کن بمباری سے بنے اور اسی بمباری نے اسرائیلی قیدیوں کی بھی جان لے لی۔

اسرائیلی بمباری کے تازہ بڑے اور چھوٹے واقعات کے ساتھ غزہ میں دس اکتوبر سے جنگ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو بھی اسرائیلی حکام کو یہ نئی تین لاشیں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے توسط سے ملی ہیں۔ ریڈ کراس سے یہ لاشیں اسرائیلی شین بیت وصول کرتی ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملنے والی تین لاشوں کی باقیات کو فرانزک کرانے کے لیے لیبارٹری بھیجا جائے گا۔ تاکہ ان کی لاشوں کی درست شناخت کی جاسکے۔

دوسری جانب حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ اس نے یہ تین لاشیں اتوار کی صبح ملبے سے نکالی ہیں۔ جو ایک سرنگ کے راستے کے ساتھ جنوبی غزہ میں موجود تھیں۔

یاد رہے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے وقت حماس کی قید میں 48 اسرائیلی قیدی تھے ۔ ان میں سے 20 زندہ تھے اور 28 کی لاشیں تھیں۔ زندہ قیدیوں کی واپسی فوری طور پر کی گئی مگر لاشوں کو مختلف جگہوں سے ملبے کے ڈھیروں سے نکالنے کی تگ و دو میں وقت لگ رہا ہے۔ اب تک ایک اندازے کے مطابق اسرائیل کو 17 لاشیں واپس بھیجی جا چکی ہیں۔ ان میں ایک نیپالی اور ایک تھائی باشندے کی لاش بھی شامل تھی۔

اسرائیل حماس پر الزام لگاتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر لاشوں کی واپسی کو لمبا کھینچ رہا ہے۔ جبکہ حماس کا مؤقف ہے کہ لاشوں کو ملبے سے نکالنا ایک مشکل اور وقت لگنے والا پر مشقت کام ہے۔ حماس نے اس سلسلے میں ثالث ملکوں سے کئی بار بھاری مشینری کے لیے بھی کہا ہے تاکہ ملبے کو ہٹا کر اور کھدائی کر کے لاشیں جلدی نکالی جا سکیں۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ان تین لاشوں کی ملبے سے نکال کر واپسی کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس قدر جلد ممکن ہو رہا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کی جارہی ہیں۔

اسرائیلی ہلاک شدہ قیدیوں کے خاندان اسرائیلی وزیر اعظم سے لاشوں کو جلد سے جلد واپس لانے کا مطالبہ کرہے ہیں اور فیصلہ کن اقدامات کے لیے کہہ رہے ہیں۔

زندگی ناممکن ہو گئی

حماس نے 17 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کرنے کے علاوہ کچھ قیدیوں کی باقیات اور لاشوں کے اجزا بھی واپس کیے ہیں۔ ان باقیات کا بڑا حصہ پچھلے سال اسرائیلی فوج لے گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد بھی اسرائیل نے حماس کے خلاف غصے کا اظہار کیا ہے کہ حماس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ہلاک شدہ قیدی کی خالہ نے کہا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ باقی ماندہ 11 قیدیوں کی لاشیں مکمل حالت میں واپس کی جائیں۔ بشمول ان قیدیوں کے جن کی لاشیں اس ہفتے واپس کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار بعض قیدیوں کی آخری رسومات کے موقع پر کیا۔

خاتون نے غصے کے اظہار میں کہا ہم اپنی زندگیوں کو اس طرح جاری نہیں رکھ سکتے کہ ہمارے پیاروں کی لاشیں ہمارے پاس نہ پہنچیں۔

فلسطینی عوام غزہ میں امید کر رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی معاہدے پر عمل کرتے ہوئے غزہ سے انخلاء شروع کر دیں گے اور امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ختم ہوجائیں گی۔

غزہ میں جبالیہ کے رہنے والے شہری نائف السلیبی نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو تاکہ ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ جب تک یہاں پر اسرائیلی فوج موجود ہے یہاں رہنا اور زندگی گزارنا ناممکن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں