اردن میں زیتون کی کاشت کو پچھلے بیس سالوں میں سب سے مشکل موسم کا سامنا ہے، کیونکہ پیداوار کی مقدار میں شدید کمی اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین کے لیے زیتون کے تیل کی فراہمی میں ایک حقیقی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے اور سخت موسمی تبدیلیوں کے درمیان غذائی تحفظ کے چیلنجوں کو ایک بار پھر اجاگر کر رہی ہے۔
اسی سلسلے میں زیتون کا تیل نکالنے والے کارخانوں اور پیداوار کنندگان کی ایسوسی ایشن کے ترجمان محمود العمری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ / الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق سال 2025 کے موسم میں اردن کی زیتون کے تیل کی پیداوار 18 سے 20 ہزار ٹن سے زیادہ نہیں ہو گی، جبکہ عام طور پر سالانہ اوسط پیداوار 25 سے 40 ہزار ٹن کے درمیان ہوتی ہے۔
خشک سالی اور گرمی
العمری نے اس کمی کی وجہ بارشوں کی کمی، خشک سالی کی لہروں اور غیر معمولی درجہ حرارت کو قرار دیا، خاص طور پر مغربی علاقوں میں جو بارش کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ موسم گذشتہ دو دہائیوں سے زیتون کے شعبے پر گزرنے والے سب سے کمزور موسموں میں سے ایک ہے۔
تاہم مقدار میں کمی کے باوجود العمری نے تصدیق کی کہ اس سال زیتون کے تیل کا معیار بہت ہی شاندار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درختوں پر پھل کی کم مقدار نے تیل کی پیداوار کو زیادہ خالص اور غذائیت سے بھرپور بنانے میں مدد دی ہے۔
پیداوار میں کمی کے باعث مقامی بازاروں میں زیتون کے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ایسوسی ایشن نے تیل کے ایک کنستر (16 کلوگرام) کی رہنمائی قیمت 100 سے 120 اردنی دینار (یعنی تقریباً 140 سے 170 امریکی ڈالر) مقرر کی، لیکن بعض علاقوں میں قیمتیں بڑھ کر 140 سے 150 دینار (یعنی تقریباً 198 سے 210 امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں۔
برآمدات کی معطلی اور درآمدی امکانات
دوسری جانب بحران سے نمٹنے کے لیے وزارتِ زراعت نے اعلان کیا ہے کہ موسم 2025 کے لیے سبز زیتون کی برآمدات مکمل طور پر روک دی جائیں گی اور زیتون کو فلسطین کے 48 کے علاقوں میں برآمد کرنے پر بھی پابندی ہوگی، حالانکہ ہر سال تقریباً چار ہزار ٹن کے تجارتی معاہدے موجود ہوتے ہیں۔
ان فیصلوں کا مقصد مقامی منڈی کو ترجیح دینا اور تمام مقدار کو زیتون کے تیل کی تیاری کے لیے استعمال کرنا ہے، تاکہ شہریوں کو مناسب قیمت اور اعلیٰ معیار کا تیل فراہم کیا جا سکے۔
وزارت نے اشارہ دیا ہے کہ اگر قلت برقرار رہی تو محدود مقدار میں زیتون کے تیل کی درآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ شرط ہو گی کہ درآمد شدہ تیل اردنی معیار کے مطابق ہو۔
اس سلسلے میں تیونس کو ایک ممکنہ ذریعہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہاں زیتون کا تیل وافر مقدار میں دستیاب ہے۔
مارکیٹ کنٹرول کے اقدامات
وزارت نے زیتون کے تیل کے کارخانوں اور پیداوار کنندگان کی ایسوسی ایشن کے تعاون سے ایک قومی مہم شروع کی جس کا نعرہ تھا: زیتون کے تیل کی جانچ کریں اور یقین کریں کہ یہ اصلی ہے۔ اس مہم کا مقصد عوام کو دھوکے سے بچانا تھا، خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہاں ناقص اور مضرِ صحت تیل کی فروخت کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔
مہم نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ زیتون کا تیل صرف مستند اور لائسنس یافتہ کارخانوں سے خریدیں، نامعلوم ذرائع کے اشتہارات سے پرہیز کریں، معیار پر شک ہونے کی صورت میں لیبارٹری ٹیسٹ کروائیں، کسانوں کی حمایت کریں اور موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں کردار ادا کریں۔
پیداوار کے بحران کے پیشِ نظر ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر حکومت سے اپیل کی کہ وہ کسانوں کو براہِ راست مالی مدد فراہم کرے، جدید آبپاشی کے حل مہیا کرے، زرعی رہنمائی اور موسمی نگرانی کے پروگراموں میں توسیع کرے۔ اس نے نشاندہی کی کہ گزشتہ برس بارش کا موسم کئی دہائیوں میں سب سے کمزور رہا، جو دیگر فصلوں کے مستقبل کے لیے بھی خطرہ ہے۔
مزید برآں فلسطینی سرحدی حکام نے اعلان کیا کہ اردنی فریق نے مغربی کنارے سے زیتون کے تیل کی درآمد کی اجازت دے دی ہے، جو 26 اکتوبر 2025 سے شروع ہو گی۔ اس فیصلے کے تحت ہر خاندان کو صرف پانچ کنستر (تنکیاں) زیتون کا تیل ایک ہی بار لانے کی اجازت ہو گی، تاکہ مقامی منڈی کے توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔