حوثیوں کا "الزینبیات یونٹ" خواتین کی آواز دبانے کے لیے کام کر رہا: اقوام متحدہ

زیر حراست خواتین کو مار پیٹ، تضحیک اور نامعلوم مقام پر قید میں رکھا جاتا ہے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے یمن سے متعلق 2025 کے لیے ایک ٹیم کی رپورٹ نے حوثی گروپ سے وابستہ "الزینبیات یونٹ" کی سرگرمیوں میں خطرناک اضافے کا بتایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ یونٹ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں، خاص طور پر دارالحکومت صنعاء میں، منظم جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے ان کے اہم ترین سکیورٹی بازوؤں میں سے ایک ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حوثیوں نے خواتین کے اس یونٹ کو سکیورٹی اور انٹیلی جنس مقاصد کے لیے تشکیل دیا ہے اور اس میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروس سے تعلق رکھنے والی بھرتی شدہ خواتین شامل ہیں۔ یونٹ کی خواتین اہلکار گھروں پر چھاپے مارنے، خواتین کو حراست میں لینے اور انسانی ہمدردی اور میڈیا کے شعبوں میں سرگرم کارکنوں اور کارکن خواتین سے پوچھ گچھ کرنے کے علاوہ عوامی سرگرمیوں اور شہری اقدامات کی نگرانی میں بھی حصہ لیتی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے بتایا کیا کہ ’’ الزینبیات یونٹ ‘‘ مخالفین کو خوفزدہ کرنے اور آزاد نسوانی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ایک مؤثر جبر کا آلہ بن چکا ہے۔ متعدد زیر حراست خواتین کو مار پیٹ، تضحیک اور غیر رسمی مقامات میں قید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان مقامات میں دارالحکومت کے اندر موجود خفیہ جیل بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ یونٹ حوثی پریوینٹیو سکیورٹی ڈیوائس کی براہ راست نگرانی میں کام کرتا ہے اور اس کی ارکان کو ایرانی ماہرین اور لبنانی حزب اللہ سے سکیورٹی اور انٹیلی جنس تربیت ملتی ہے۔ اس تربیت میں فیلڈ نگرانی، معلومات جمع کرنے اور پوچھ گچھ کی تکنیکیں سکھائی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں حوثیوں کی اتھارٹی کے پولیسنگ کردار کی توسیع اور خواتین کو خود خواتین کو دبانے کے لیے ایک سکیورٹی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی طرف ایک منظم تبدیلی کی نمائندگی کر رہی ہے۔

رپورٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ "الزینبیات" کی جانب سے سیاسی تعاقب اور من مانی گرفتاریوں کا مسلسل نفاذ بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور یمنی معاشرے میں، خاص طور پر خواتین اور کارکنان کے درمیان، خوف اور خاموشی کے ماحول کو فروغ دینے میں معاون ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائیں اور حوثی سکیورٹی اداروں پر سخت نگرانی نافذ کریں جو خواتین یونٹس کو قانون کے دائرہ کار سے باہر سکیورٹی کارروائیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں