آذربائیجان لڑائی مکمل طور پر بند ہو جانے کی صورت میں ہی غزہ میں امن فوجی بھیجے گا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آذربائیجان غزہ میں امن دستے بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا جب تک کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مکمل طور پر نہ رک جائے، یہ بات ملک کے ایک سرکاری ذریعے نے جمعہ کو رائٹرز کو بتائی۔

تقریباً 20,000 فوجیوں کی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) غزہ امن منصوبے کا ایک حصہ ہے جس میں ممکنہ شراکت کے بارے میں امریکہ، آذربائیجان، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر اور ترکی سے بات کر رہا ہے۔

آذربائیجانی ذریعے نے کہا، "ہم اپنے فوجیوں کی جانیں خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب فوجی کارروائی مکمل طور پر رک جائے۔"

ذریعے نے بتایا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو گی۔ دوسری جانب پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ نے رائٹرز کو بتایا کہ اسے ابھی تک اس معاملے پر کوئی مسودہ بل موصول نہیں ہوا۔

جنوبی قفقاز کا ملک کن حالات میں امن فوجی میں شامل ہو گا، اس حوالے سے رائٹرز کے تحریری سوالات کے جواب میں آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی تیار کردہ ایک مسودہ قرارداد سے آئی ایس ایف کو اختیار مل جائے گا کہ وہ غزہ میں سکیورٹی مستحکم کرنے کی غرض سے اپنے مینڈیٹ پر عمل کرنے کے لیے "تمام ضروری اقدامات" کرے یعنی اگر ضروری ہو تو طاقت کا استعمال بھی۔

حماس نے یہ نہیں کہا ہے کہ آیا وہ غیر مسلح ہونے اور غزہ کو غیر فوجی بنانے پر راضی ہو گی کیونکہ اس مطالبے کو وہ پہلے مسترد کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں