فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفیوریو نے کہا ہے کہ ان کا ملک لبان میں پانچ مقامات سے اسرائیلی دستبرداری کا مطالبہ کرتا ہے اور جنوبی لبنان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے نتیجے میں ہونے والے تمام اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ ’’ العربیہ/ الحدث" کو دیے گئے بیانات میں پاسکل کونفیوریو نے مزید کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا لبنانی مسلح افواج کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک مشکل کام ہے جس کے لیے روزانہ کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور فرانس اس کوشش میں لبنانی فوج کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پیرس لبنانی حکومت کے اس منصوبے کی مکمل حمایت کرتا ہے جسے پانچ ستمبر کے پلان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پلان میں ملک کے اس حصے پر خودمختاری بحال کرنے اور حزب اللہ کے مکمل تخفیف اسلحہ کے حصول کے لیے جنوب میں لبنانی مسلح افواج کی تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاملہ فرانس کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
قبل ازیں فرانس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام لبنانی سرزمین سے جلد از جلد دستبردار ہو جائے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پیرس تمام فریقوں سے جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
اسرائیلی فضائی حملے
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیل نے جمعرات کی شام حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ نومبر 2014 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ سب سے شدید حملے تھے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے حزب اللہ کے فضائی یونٹ سے تعلق رکھنے والے مقامات کو نشانہ بنایا جب کہ رہائشیوں کو علاقے کے متعدد محلوں کو خالی کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے جمعہ کو لبنانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا اسرائیل اپنی بمباری کی مہم جاری رکھے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ لبنانی حکومت اس گروپ کو غیر مسلح کرے۔ لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بیان میں یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں جس کی ضرورت ہے تو ہم پوری طاقت کے ساتھ کارروائی جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ یہ چوتھی بار ہے کہ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے جب سے نومبر 2014 میں اس کے اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا۔