امریکی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر رفح میں پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں پیر کے روز حماس اور اسرائیلی نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔ دونوں امریکی ذمہ دار فریقین کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیں گے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے رفح میں پیدا تازہ صورتحال کی مکمل ذمہ داری اسرائیلی فوج پر عائد کی ہے۔
اتوار کے روز القسام بریگیڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا ہم تصور بھی نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں ثالث ملک جوابدہ ہیں کہ وہ جنگ بندی پر عملدرآمد اور اس کے تسلسل کی ضمانت دیں۔ نیز اسرائیل کو اس امر سے روکا جائے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں کو قتل نہ کرے۔
خیال رہے حماس نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی قیدی جو اسرائیل کی بمباری سے ہلاک ہو کر ملبے کے نیچے دب گئے تھے ان کی لاشیں نکالنا انتہائی مشکل کام ہے۔ تاہم حماس کے لوگ پوری محنت سے یہ کام کر رہے ہیں اور اب تک 23 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل بھجوائی جا چکی ہیں۔
رفح میں حماس کے جنگجوؤں کے حوالے سے مصر کی یہ تجویز سامنے آچکی ہے کہ ان کو محفوظ راستہ دیا جائے تاکہ جنگ بندی معاہدہ خطرے سے دوچار نہ ہو۔ البتہ حماس کے جنگجو اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو کسی صورت تیار نہیں ہیں۔ تاہم کسی تیسرے فریق کے سامنے ہتھیار چھوڑنے کو تیار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں غزہ کی پٹی پر واپس جانے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے۔
جمعرات کے روز سٹیو وٹکوف نے کہا تھا کہ حماس کے 200 جنگجووں کے ہتھیار چھوڑنے کا معاملہ امن معاہدے کے تحت ایک ٹیسٹ کیس ثابت ہوچکا ہے۔
خیال رہے جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی فوج 241 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر چکی ہے۔
-
اسرائیلی فوجی سربراہ کا عزم: 2014 کی غزہ جنگ میں ہلاک شدہ افسر کی باقیات واپس لائیں گے
فوجی حماس کی سرنگوں کا سراغ لگانے والے یونٹ میں شامل تھا
مشرق وسطی -
اہالیاں غزہ کی مدد کے لیے سعودی عرب سے 72واں امدادی طیارہ روانہ
مصر کی جمہوریہ میں واقع العریش بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی کا بہترواں طیارہ ...
مشرق وسطی