"دہشت گردوں" کے لیے سزائے موت کی تجویز پیش کرنے والا ایک بل پیر کو اسرائیل کی پارلیمنٹ میں پہلی دفعہ پیش کرنے پر ہی منظور کر لیا گیا جو ایک ایسا اقدام ہے جس کا اطلاق اسرائیلیوں کے خلاف مہلک حملوں کے مرتکب فلسطینیوں پر ہو سکتا ہے۔
تعزیری قوانین میں ترمیم 16 کے مقابلے میں 39 ووٹوں سے منظور ہوئی جس کا مطالبہ انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے کیا تھا اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس کی منظوری دی۔ قانون بننے سے پہلے اس کا دوسرے (بحث) اور تیسرے مرحلے (جانچ پڑتال اور ترمیم) سے گذرنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ رائے شماری غزہ میں حماس کے ساتھ کشیدہ جنگ بندی کے درمیان ہوئی۔
اگرچہ اسرائیل میں بہت کم جرائم کے لیے سزائے موت موجود ہے لیکن یہ سزائے موت ترک کر دینے والا ایک ڈی فیکٹو ملک بن گیا ہے۔ نازی ہولوکاسٹ کے مرتکب ایڈولف ایچ مین آخری شخص تھے جنہیں 1962 میں پھانسی دی گئی۔
بین گویر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس قانون کو ووٹ نہ دیا گیا تو وہ اپنی جیوش پاور پارٹی کو گورننگ اتحاد سے نکال لیں گے۔
سکیورٹی کمیٹی کے ایک بیان بشمول بل کے وضاحتی نوٹ میں کہا گیا ہے: "اس کا مقصد دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور اس کا وسیع انسداد ہے۔"
نیز کہا گیا، "یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ ایک دہشت گرد جسے نسل پرستی یا عوام کے خلاف نفرت کے باعث قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہو اور ایسے حالات میں کہ یہ فعل اسرائیل کی ریاست کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کیا گیا ہو تو اسے سزائے موت دی جائے گی جو لازمی ہو گی"۔
حماس نے اس بل پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون "بدمعاش صہیونی قابض کے بدصورت فسطائی چہرے کا اظہار ہے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کی نمائندگی کرتا ہے۔"
رام اللہ میں قائم فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اسے "فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی انتہا پسندی اور جرائم میں اضافے کی ایک نئی شکل" قرار دیا۔