موسم کی سختی، غزہ میں تیار شدہ مکانات لانے کی اجازت دی جائے: فلسطینی صدر

اہالیان غزہ کو درپیش انسانی بحران میں شدید بارشوں سے مزید اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

فلسطینی صدر دفتر نے ہفتے کے روز دنیا کے ملکوں خاص طور پر امریکی انتظامیہ اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے ضامن ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ میں تیار شدہ مکانات (پری فیب ہاؤسز) اور خیمے فوری طور پر داخل کیے جا سکیں کیونکہ موجودہ شدید موسمی حالات شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ صدر کے دفتر کے مطابق غزہ میں باقی ماندہ بوسیدہ اور پھٹے ہوئے خیمے نہ تو بارش کے داخلے کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی شہریوں کو کوئی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

دفتر نے اسرائیل کی جانب سے عائد پابندیاں اور رکاوٹیں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے جو فلسطینی حکومت کو متحرک مکانات، خیمے اور پناہ گاہ کے دیگر سامان غزہ کی پٹی میں داخل کرنے سے روک رہی ہیں تاکہ اس سنگین انسانی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے جو بچوں، خواتین اور بزرگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں جس نے بے گھر افراد کے خیموں کو ڈبو دیا اور غزہ کے ان شہریوں کی مصیبت کو مزید بڑھا دیا جو دو سال سے زائد عرصے سے جنگ کے نتائج سے نبرد آزما ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کو ایک ماہ سے زیادہ گزر جانے کے باوجود انسانی بحران کم نہیں ہوا اور یہ انتباہ کیا جا رہا ہے کہ آنے والا سرد موسم مصائب میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس سرد موسم کے پہلے موسمی دباؤ نے بے گھر افراد کے خیموں کو تباہ کردیا ہے اور ان میں سے بہت سے کو نقصان پہنچایا۔ بنیادی خدمات کی شدید کمی کے پیش نظر ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق مکینوں نے علاقوں کے زیر آب آنے اور سامان کے خراب ہونے کی شکایت کی جبکہ پانی نے پٹی کے مختلف تباہ شدہ علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

خیمے ڈوب گئے

جمعہ کی صبح شدید بارشیں شروع ہوئیں ۔ علاقے میں گہرے موسمی دباؤ کا مشاہدہ کیا گیا۔ بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال بن گئی اور پانی کے تالاب بن گئے جنہوں نے کئی خیموں کو گھیر لیا اور بارش کا پانی دیگر ان بوسیدہ خیموں میں بھی داخل ہوگیا جن کی چھتوں میں بڑے سوراخ تھے۔

اہل خانہ کی جانب سے خیموں کو بارش سے بچانے کے لیے کی گئی سادہ تیاریاں اور سابقہ انتباہات کارآمد ثابت نہیں ہوئے۔ بہت سے خیمے ڈوب گئے اور کئی خاندان بے گھر ہو گئے کیونکہ اب ان کے پاس کوئی پناہ گاہ باقی نہیں رہی۔ اہل علاقہ کی جانب سے بارش کے پانی کا رخ موڑنے کے لیے اپنے رہائشی علاقوں کے قریب بنائی گئی مٹی کی رکاوٹیں بھی منہدم ہو گئیں جس سے خیموں میں بڑی مقدار میں پانی داخل ہو گیا۔ نشیبی علاقے بھی ڈوب گئے جن میں بے گھر افراد کے خیمے شامل تھے۔

خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ ان کا تمام سامان بھیگ گیا ہے اور ان کے پاس اپنے بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ موسمی دباؤ کے ساتھ چلنے والی شدید ہواؤں نے بہت سے خیموں کو تباہ کردیا اور جڑوں سے اکھاڑ دیا۔ کھلے علاقوں اور غزہ کے ساحلوں کے قریب اور خصوصاً جنوبی پٹی میں خان یونس کے مواصي کے علاقے میں بارش اور سرد ہواؤں سے حالات مزید ابتر کردیے۔

رفح، جنوبی غزہ میں بارش - رائٹرز
رفح، جنوبی غزہ میں بارش - رائٹرز

امداد کی اپیلیں

اہل غزہ بارش کی وقتی طور پر رکنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان خیموں کی مرمت کی کوشش کر رہے ہیں جن کے کھونٹے اکھڑ گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو پٹی کے تمام علاقوں میں بار بار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ انہیں بے گھر خاندانوں کی جانب سے سیکڑوں امدادی اپیلیں موصول ہوئی ہیں جن کے خیموں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں ہر سیکنڈ شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے کیونکہ مکانات بوسیدہ اور گرنے کے قریب ہیں۔ شہری دفاع نے شہریوں، خاص طور پر بے گھر افراد سے اپیل کی کہ وہ جہاں تک ممکن ہو خیموں کو مضبوط کریں۔ ان کے گرد ریت کی رکاوٹیں لگائیں اور موسمی دباؤ کے نقصان سے بچنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

افسوسناک حقیقت

محمود بصل نے مزید کہا کہ بارش کی پہلی بوندوں کے ساتھ ہی سیکڑوں خیمے ڈوب گئے۔ خاص طور پر غزہ سٹی میں۔ ان میں شہریوں کا سامان اور وہ کپڑے بھی شامل تھے جو انہوں نے پہلے اپنے تباہ شدہ مکانات کے ملبے کے نیچے سے نکالے تھے۔ بے گھر افراد زندگی کی بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی، بنیادی سامان تک رسائی میں دشواری اور اسرائیلی محاصرے کے مسلسل جاری رہنے کے نتیجے میں اہم خدمات کی کمی کی وجہ سے ایک افسوسناک حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومتی میڈیا آفس کے اندازوں کے مطابق 93 فیصد خیمے اب رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ 135,000 میں سے 125,000 خیمے بنتے ہیں۔ تعمیر نو سے قبل پٹی کو عارضی پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے فی الحال تقریباً 250,000 خیموں اور 100,000 کیروان (عارضی مکان) کی ضرورت ہے۔

اندرونی نقل مکانی

موسمی دباؤ کی وجہ سے پٹی میں اندرونی نقل مکانی بھی شروع ہوگئی ہے۔ فلسطینی خیموں کے گرنے، بوسیدہ عمارتوں، متبادل کی کمی اور ناکافی پناہ گاہ کے مراکز کی عدم موجودگی میں سردی اور بارش سے بچانے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔ ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں خیموں کے اندر مصائب کی شدت کو دکھایا گیا ہے۔ اہل خانہ بچوں میں خوف و ہراس کے عالم میں اپنے سامان میں سے جو کچھ بچا سکتے ہیں اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسانی تباہی

حکومتی میڈیا آفس نے فلسطینی نیوز ایجنسی (وفا) کے ذریعہ شائع کردہ ایک بیان میں تقریباً ڈیڑھ ملین بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی مصیبت سے خبردار کیا ہے جو خیموں میں رہ رہے ہیں۔ آفس نے اس بات پر زور دیا کہ ان میں سے بہت سے خیمے بارش کے پانی کی وجہ سے منہدم یا پھٹ چکے ہیں اور ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں جن کے پاس اب بارش اور ہوا سے بچانے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ حتی کے ان کے پاس سرد ہواؤں سے بچنے کے لیے ایک معمولی خیمہ بھی نہیں ہے۔

آفس نے مزید کہا کہ پٹی کے مکین دو سال سے نسل کشی اور بے مثال انسانی مصائب کا شکار ہیں۔ پانی، خوراک، رہائش اور صحت کی دیکھ بھال کی ممانعت ہے اور قابض اسرائیلی فوج امدادی سامان کی ضروریات کو داخل کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے منحرف ہو رہی ہے۔ آفس نے جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامنوں، اقوام متحدہ، عرب لیگ اور تنظیم تعاون اسلامی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی، طبی اور پناہ گاہ کے سامان کی امداد کو داخل کرنے کے لیے فوری کارروائی کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں