امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ایک ایسا جری قائد قرار دیا ہے جو واشنگٹن اور ریاض کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں اور شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ سعودی اتحاد کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنایا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک تقریباً 270 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس بہترین عسکری نظام موجود ہے جسے سعودی عرب کو فراہم کیا جائے گا اور یہ کہ سعودی عرب نیٹو کے باہر امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔
سرمایہ کاری فورم اور نئی شراکتوں کا آغاز
یہ اعلان سعودی امریکہ سرمایہ کاری فورم کے دوسرے ایڈیشن کے دوران کیا گیا جو "قیادت برائے ترقی... سعودیہ ۔امریکہ اقتصادی شراکت کو مضبوط بنانا" کے عنوان سے واشنطن میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد کی امریکہ آمد کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک مشترکہ مواقع سے فائدہ اٹھانے اور اپنی نو دہائیوں پر محیط شراکت کو مزید آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں جو عالمی سطح پر انتہائی مؤثر تعلقات میں شمار ہوتی ہے۔ اسی حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے پرکشش مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جو سعودی امریکہ شراکت فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض اور واشنٹن دفاع، توانائی اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں بڑے سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کریں گے۔
اسٹریٹجک شراکت کی گہرائی
دونوں ممالک نے دفاع، مصنوعی ذہانت، معدنیات اور اہم مواد کی سپلائی چینز سمیت کئی شعبوں میں نئی اسٹریٹجک معاہدوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک مشترکہ سعودی امریکہ اسٹریٹجک فریم ورک کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری کی منظوری کے عمل کو تیز اور بہتر بنانا ہے۔
دورے کے اثرات: بین الاقوامی سطح پر پذیرائی
بین الاقوامی امور کی مشیر میڈلین مدللی نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ سعودیہ امریکہ تعلقات کو ہر شعبے میں اسٹریٹجک شراکت کے نئے مرحلے میں لے جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ خطے میں سعودی عرب کے مرکزی کردار کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور یہ کہ مملکت علاقائی استحکام میں بنیادی رول ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی مؤقف نے شام اور مسئلہ فلسطین سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح وزیر اعظم اور ولی عہد کے اس دورے کے نتائج کو عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ ملی۔ سعودی عرب امریکہ سربراہی ملاقات کے نتائج روایتی موضوعات سے آگے بڑھ کر مستقبل کی اسٹریٹجک شراکت کی بنیاد بنے۔ اس موقع پر ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں اہم معاہدوں پر دستخط ہوئے جو دونوں ممالک میں اقتصادی تبدیلی کی رفتار میں اضافہ کریں گے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ اور روزگار کے نئے مواقع کو یقینی بنائیں گے۔