مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی گرفتاریاں اور مویشیوں کو زہر دینے کی کارروائی

اسرائیلی فورسز نے پرانے شہر کے بیشتر محلّوں میں مقامی رہائشیوں کے خلاف اپنے جابرانہ اقدامات میں اضافہ کر دیا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک فلسطینی کارکن نے آج بروز ہفتہ بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے وسط میں واقع پرانے شہر کے متعدد محلّوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

گرفتاریاں اور بھیڑوں کو زہر دینا

فلسطینی خبر ایجنسی ''وفا'' نے کارکن عارف جابر کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے پرانے شہر کے بیشتر محلّوں میں اہلِ علاقہ کے خلاف جابرانہ کارروائیاں بڑھا دیں، جابر، سلايمہ اور وادی الحصین کی گلیوں میں کرفیو نافذ کر دیا، لوگوں کا پیچھا کیا اور انہیں گھروں کی چھتوں پر چڑھنے، گھروں سے نکلنے یا کھڑکیوں پر کھڑے ہونے سے بھی روک دیا۔

اسی سلسلے میں فلسطینی مقامی ذرائع نے بتایا کہ آج (ہفتہ) ایک اسرائیلی گروہ نے رام اللہ کے مشرق میں گاؤں المغير کے علاقے الخلايل پر دھاوا بولا اور ایک شہری کے بھیڑوں کے ریوڑ کو زہر دے دیا، جس کے باعث تین بھیڑیں ہلاک ہو گئیں۔



ایجنسی نے بتایا کہ المغير گاؤں مسلسل حملوں کا شکار ہے، جن میں گاڑیاں جلانا، نسل پرستانہ نعرے لکھنا، اپنی مویشیوں کو فلسطینی زمینوں میں چرانا اور حال ہی میں شہریوں کی زرعی مشینری چرالینا شامل ہے۔

ادھر آج صبح (ہفتہ) اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی لہر شروع کی، جس میں درجنوں فلسطینی گرفتار ہوئے۔

فلسطینی نیوز ایجنسی ''صفا ''نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے الخلیل کے شمال میں واقع بیت اُمر قصبے پر دھاوا بول کر گھروں کی تلاشی لی اور 55 سے زائد شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

ایجنسی کے مطابق گرفتار شدگان میں ایک بزرگ بدر ابو عیاش اور الخلیل میونسپل یونین کے سربراہ رامی الجنیدی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے نابلس پر حملے کے دوران مزید 9 شہریوں کو گرفتار کیا۔

ایک مختلف قسم کی جنگ

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ مغربی کنارے کے لوگ ایک اور طرح کی جنگ بھی جھیل رہے ہیں،وہ جنگ جو اسرائیل زیتون کے درختوں کے خلاف چھیڑے ہوئے ہے، جو ہزاروں فلسطینیوں کا ذریعہ معاش ہیں۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی حکام نے ایک فوجی حکم جاری کیا، جس کے تحت رام اللہ کے مغرب میں دو گاؤں کی زمینوں سے ہزاروں درخت اکھاڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکم کے مطابق راس کرکر کے مغربی حصے اور جبل الریسن اور کفر نعمہ کے العورید علاقے سے درختوں کو فوجی مقاصد کے لیے اکھاڑا جائے گا، جبکہ متاثرہ زمین کا رقبہ تقریباً 15 دونم بنتا ہے، جیسا کہ ''وفا'' نے رپورٹ کیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کی تنظیم (اوچا) کے مطابق 7 سے 13 اکتوبر کے ایک ہی ہفتے میں مغربی کنارے کی 27 بستیاں زیتون کی فصل سے متعلق حملوں کا نشانہ بنیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کی تنظیم (اوچا) کے مطابق 7 سے 13 اکتوبر کے ایک ہی ہفتے میں مغربی کنارے کی 27 بستیاں زیتون کی فصل سے متعلق حملوں کا نشانہ بنیں۔

اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے اور اس وقت وہاں تقریباً پانچ لاکھ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جن کی بستیوں کو اقوام متحدہ اور بیشتر عالمی برادری غیر قانونی سمجھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں