لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو اسرائیل نے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر حملہ کیا اور حزب اللہ کے ایک بڑے رہنما کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے۔ صہیونی فوج نے اتوار کو تصدیق کی کہ انہوں نے حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم علی طبطبائی کو بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ کی ایک عمارت پر کیے گئے فضائی حملے میں مار دیا۔ فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ فوجی انٹیلی جنس ڈویژن کی ہدایت پر فضائیہ نے بیروت کے علاقے میں ایک حملہ کیا۔ حملے میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف ہیثم علی طبطبائی کو قتل کردیا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے اتوار کو بیروت پر حملہ کرنے کا حکم دیا جس میں حزب اللہ کے چیف آف سٹاف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے بیروت کے مرکز میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے چیف آف سٹاف پر حملہ کیا۔ چیف آف سٹاف تنظیم کی تنظیم نو اور اسلحہ سازی کی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ نیتن یاہو نے حملے کا حکم دیا تھا ۔
حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے تسلیم کیا کہ اتوار کو جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بڑا فوجی کمانڈر ہی ہدف تھے۔ عہدیدار محمود قماطی نے کہا کہ نشانہ مزاحمت کی ایک اہم شخصیت تھی اور نتائج غیر معلوم ہیں۔ مزاحمت پر قائم رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور اس جاری جارحیت کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو ایک نئی سرخ لکیر کو پار کر رہی ہے۔ یاد رہے ایک سال سے نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملے جاری ہیں۔
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا تاکہ کسی بھی ایسی خرابی کو روکا جا سکے جو علاقے میں دوبارہ کشیدگی پیدا کرے۔ لبنانی صدر نے عالمی برادری سے اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے بھرپور مداخلت کا مطالبہ کیا۔ عون نے زور دیا کہ اسرائیل حملوں کو روکنے کی درخواستوں کی پروا نہیں کرتا۔ قومی خبر رساں ایجنسی نے ضاحیہ کو نشانہ بنانے والے حملے کے آس پاس کی گاڑیوں اور عمارتوں کو بڑے نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔
"ایکسوس" کے ایک رپورٹر نے اتوار کو ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں انکشاف کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو بیروت کے ایک مضافاتی علاقے میں حزب اللہ کے ایک رہنما کو نشانہ بنانے والے حملے کے بارے میں پہلے سے مطلع نہیں کیا تھا۔ رپورٹر نے مزید کہا کہ عہدیدار نے واضح کیا کہ امریکی انتظامیہ کو حملے کے فوراً بعد مطلع کیا گیا۔ ایک دوسرے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ کو کئی دن سے معلوم تھا کہ اسرائیل لبنان میں حملوں میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
حماس کے ایک رہنما کی ہلاکت
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے غزہ میں حماس کے ایک رہنما کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی پوسٹ نے ہلاک ہونے والے رہنما کی شناخت علاء الحدیدی کے نام سے کی جو حماس کے پروڈکشن ہیڈکوارٹر میں لاجسٹک انچارج تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ کل ہفتے کو کیے گئے حملوں میں مارے گئے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے ہفتے کو غزہ پر فضائی حملے کیے جو حماس کی جانب سے اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک جنگجو بھیجنے کے جواب میں تھے۔ نیتن یاہو نے حماس کے پانچ اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک ہوئے۔
حماس نے ہفتے کو تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی خطرناک اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیاں، ثالثوں اور امریکی انتظامیہ کو اپنی ذمہ داریوں کے سامنے کھڑا کر رہی ہیں تاکہ معاہدے کو کمزور کرنے کی اس کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
تنظیم نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج روزانہ ییلو لائن کو ہٹا کر اور پٹی کے اندرونی علاقوں میں مغرب کی طرف بڑھ رہی ہیں جس سے شہریوں کے درمیان نئے اجتماعی نقل مکانی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی مشرقی غزہ کو نشانہ بنانے والے فضائی حملے اور توپخانے کی گولہ باری بھی ہو رہی ہے اور یہ معاہدے کی شقوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ منظم خلاف ورزیوں کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کی وجہ فضائی حملے اور مختلف بہانوں سے مسلسل قتل کی کارروائیاں ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اپنی پسپائی کی لکیروں کو ان نقشوں کے خلاف تبدیل کر دیا ہے جن پر پہلے اتفاق کیا گیا تھا۔