ایران اپنا میزائل پروگرام دوبارہ تعمیر کر رہا ہے: امریکی عہدیدار
ایران خطے میں اپنی تمام ملیشیاؤں کو اسلحہ، میزائل اور ڈرون سمگل کر رہا ہے
امریکہ کو ایران کے حوالے سے نازک ہفتوں کا سامنا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی واپسی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک پالیسی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ گزشتہ جون میں ایرانی فوجی، جوہری اور جنگی تیاری کے مراکز پر امریکہ- اسرائیلی فضائی مہم نے جوہری اور میزائل دونوں پروگراموں کو سخت نقصان پہنچایا لیکن انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا تھا۔
عام اندازے یہ ہیں کہ جوہری پروگرام رک گیا لیکن ایران اب بھی 60 فیصد افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار اپنے پاس رکھے ہوئے ہے ۔ بار بار ہونے والے حملوں نے میزائل فیکٹریوں اور بہت سے لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم یہ پانچ ماہ پہلے ہوا تھا اور حملوں کے خاتمے کے بعد امریکیوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی چاہیں تو وہ 12 ماہ کے اندر ایرانی جوہری پروگرام کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکیوں نے گزشتہ موسم گرما سے ہی اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ ایران میزائل پروگرام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میزائل کی تیاری
ایک امریکی عہدیدار نے ’’ العربیہ ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کو بتایا ہے کہ ایران اب واقعی اپنا میزائل پروگرام دوبارہ تعمیر کر رہا ہے۔ یہ واضح ہے کہ تہران اپنی میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ ترتیب دینے پر اصرار کر رہا ہے۔ بیلسٹک میزائل ہوں، کروز میزائل ہوں یا ڈرون ایران ہمیشہ میزائل پروگرام کو اپنے اوپر ہونے والے حملے کو روکنے کے ساتھ ساتھ اپنی وفادار ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کا ذریعہ سمجھتا رہا ہے۔ امریکی عہدیدار نے نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ ایران خطے میں اپنے تمام بازوؤں یا ملیشیاؤں کو اسلحہ، میزائل، میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون سمگل کر رہا ہے۔ یہ ایرانی اسلحہ عراق میں ملیشیاؤں، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں تک پہنچ رہا ہے۔
ایرانیوں کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران میں حکومت اب بھی میزائل پروگرام کی تعمیر کے ذریعے حملے کو روکنے کے نظریہ کو اپنائے ہوئے ہے۔ اگرچہ اس نے شام میں بشار حکومت کے زوال سے ایک بڑی جگہ کھو دی ہے لیکن وہ پچھلے فارمولے کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ حاصل کرنے پر بضد ہے تاکہ وہ اپنی میزائل صلاحیتوں کو بحال کر سکے۔ حوثیوں کو امریکی مہم کے دوران ہونے والے نقصان کا ازالہ کر سکے اور حزب اللہ کو ایک سال کے دوران ہونے والے نقصان کا ازالہ کر سکے۔ اس کے علاوہ تہران عراق میں اپنی وفادار ملیشیاؤں کے ذریعے اپنی طاقت کے مراکز کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے اور انہیں میزائل صلاحیتیں فراہم کر رہا ہے۔
امریکی تعاقب
ایک امریکی عہدیدار نے ’’ العربیہ ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کو بتایا کہ امریکہ اپنی تمام توجہ اس پر مرکوز کیے ہوئے ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام اور خطے میں اپنے بازوؤں کو اسلحہ سمگل کرنے کے حوالے سے کیا کر رہا ہے۔ لیکن انہوں نے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے بہت سے سابقہ منصوبوں اور اقدامات نے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں دیا کیونکہ امریکی بحری پھیلاؤ اور یمن کے ساحلوں کے سامنے والے پانیوں میں مشترکہ افواج کے استعمال کے باوجود حوثی اسلحہ اور میزائل درآمد کرنے میں کامیاب رہے۔ یہی حال حزب اللہ کا بھی تھا جس نے شامی حکومت کے زوال کے بعد نقل و حمل میں دشواری محسوس کی لیکن ایرانی پاسداران انقلاب اس سال کے آغاز سے ہی اسلحہ اور میزائل کے پرزے لبنان تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایرانیوں نے طرابلس کی بندرگاہ، لبنانی- شامی سرحد اور عراقی اور شامی سرزمین کے ذریعے سمگلنگ کے کئی نیٹ ورکس کا استعمال کیا۔
جوہری خوف
امریکی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے اور امریکی اہلکاروں نے ایران کی جانب سے اپنی تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے یا ان میں ہونے والے بڑے نقصان کی مرمت کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔ تاہم بہت سی غیر سرکاری رپورٹیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران نے نطنز، اصفہان اور فردو میں ان تنصیبات کی بڑی اکثریت کی مرمت نہیں کی ہے لیکن اس کے پاس 60 فیصد افزودہ یورینیم کا 408 کلوگرام ذخیرہ موجود ہے جو 12 جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ اور اگر ایران خفیہ یا نئی تنصیبات استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ جوہری ممالک کے کلب میں شامل ہو سکتا ہے اور اپنے اوپر کسی بھی روایتی حملے کو روک سکتا ہے۔
آئندہ چند مہینوں میں امریکیوں اور ایرانیوں کو بہت زیادہ کام کرنے، بات چیت کرنے اور لچک دکھانے کی ضرورت ہو گی تاکہ ایرانیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان فضائی لڑائیاں دوبارہ شروع نہ ہوں۔ سب فریق اس وقت فیصلہ کے لمحے کا انتظار کر رہے ہیں۔