لاذقیہ میں داعش کا گروہ گرفتار ... شامی ساحلی علاقوں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا الزام

لاذقیہ میں داخلہ سیکورٹی کے محکمے کے مطابق البدروسیہ میں پکڑا جانے والا گروہ داعشی فکر کے حامل خطر ناک ترین گروہوں میں سے ایک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شامی سکیورٹی حکام نے پیر کی شام اعلان کیا ہے کہ لاذقیہ میں داعش تنظیم سے وابستہ ایک خفیہ گروہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گروہ ساحلی علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق لاذقیہ کے صوبائی محکمہ داخلہ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبدالعزیز ہلال الاحمد نے بتایا کہ لاذقیہ کے شمالی دیہی علاقے البدروسیہ میں ایک منظم اور کامیاب سکیورٹی کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں داعش کے سب سے خطرناک گروہوں میں سے ایک گروہ کو ہدف بنایا گیا اور اس کے تمام ارکان گرفتار کر لیے گئے۔

بریگیڈیئر جنرل نے وزارتِ داخلہ کے ٹیلیگرام چینل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ "تفصیلی نگرانی اور باریک بینی سے تعاقب کے بعد ہمارے خصوصی یونٹوں نے عام انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے لاذقیہ کے شمالی علاقے البدروسیہ میں ایک نہایت منظم کارروائی کی۔ یہ گروہ داعش کے انتہا پسند نظریات رکھتا تھا اور ساحلی شامی علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران گروہ کے افراد کے ساتھ مسلح جھڑپ بھی ہوئی، کیونکہ انہوں نے گرفتاری کی مزاحمت کی کوشش کی۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں گروہ کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دو افراد کو اس وقت "ختم" کر دیا گیا جب انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ کارروائی کے دوران اسلحہ اور مختلف نوعیت کا بارود بھی برآمد کیا گیا، اور انٹیلی جنس کے ایک اہل کار کو شدید چوٹیں آئیں۔

بریگیڈیئر جنرل الأحمد نے اپنے بیان میں کہا "لاذقیہ کی داخلی سکیورٹی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ قانون کی گرفت ہر اس شخص تک پہنچے گی جو شہریوں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ ساحل کے امن کو چیلنج کرنے یا دہشت گرد گروہوں کی معاونت کی کسی بھی کوشش کا طاقت اور سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size